ڈی جی پی آئی ڈی کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کے لیے میڈیا کی خواندگی ضروری ہے۔

ڈی جی پی آئی ڈی شفقت عباس پنجاب یونیورسٹی میں ڈیجیٹل انتہاپسندی پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے

یوتھ ویژن نیوز: (نمائدہ خصؤصئ اُمِ ہانی سے) ڈی جی پی آئی ڈی لاہور شفقت عباس نے کہا ہے کہ طلبہ اگر میڈیا خواندگی، تنقیدی سوچ اور ڈیجیٹل تصدیق کی مہارتیں حاصل کر لیں تو وہ جھوٹے بیانیے کے پھیلاؤ کو مؤثر انداز میں روک سکتے ہیں اور یہ یقینی بنا سکتے ہیں کہ سچائی پروپیگنڈے پر غالب رہے۔ پنجاب یونیورسٹی کے ڈیپارٹمنٹ آف میڈیا ڈویلپمنٹ کمیونکیشن میں ”ڈیجیٹل انتہاپسندی کے دور میں امن کی سفارت کاری“ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جدید دور کی لڑائی میدانِ جنگ سے پہلے ڈیجیٹل دنیا میں لڑی جاتی ہے، جہاں غلط معلومات، مسخ شدہ مواد اور گمنام اکاؤنٹس عوامی جذبات کو متاثر کرتے ہیں۔ ڈی جی پی آئی ڈی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی سچائی اور مؤقف کو عالمی سطح پر قابلِ اعتماد طریقے سے پہنچانے کے لیے نوجوانوں میں ڈیجیٹل بیداری ناگزیر ہے۔

ڈیجیٹل پروپیگنڈا—نیا میدانِ جنگ
ڈی جی پی آئی ڈی شفقت عباس نے کہا کہ پَلگام واقعے اور پاک بھارت تنازعے کے دوران بھارت نے چند منٹوں میں ڈیجیٹل پروپیگنڈا مہم شروع کر دی، جو غلط معلومات کے خطرناک اثرات کا ثبوت ہے۔

سینئر صحافیوں اور ماہرین کی آراء
سیمینار سے صحافی محمد دلاور چوہدری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غلط معلومات کو آگے پھیلانے کی ذمہ داری صارفین پر عائد ہوتی ہے، اس لیے تصدیق کے بغیر کوئی مواد شیئر نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ انتہاپسندی وہ ہے جس میں کوئی شخص اپنے نظریے کو دوسروں پر زبردستی مسلط کرے۔

ڈیجیٹل لٹریسی—وقت کی ضرورت
شعبہ کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عائشہ اشفاق نے بتایا کہ ٹک ٹاک، یوٹیوب اور فیس بک استعمال کرنے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، مگر ڈیجیٹل لٹریسی نہ ہونے کے باعث نوجوان مس انفارمیشن کا آسان شکار بنتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غلط معلومات آج کے دور کا سب سے خطرناک ہتھیار بن چکی ہیں، اس لیے وسیع مطالعہ اور مستند ذرائع تک رسائی ضروری ہے۔

سیمینار میں طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی جبکہ آخر میں مہمانوں کو شیلڈز پیش کی گئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں