ڈی جی آئی ایس پی آر کی بریفنگ: اداروں کے خلاف بیانیہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار

army-spokesperson-security-briefing-statement

وتھ ویژن نیوز : (واصب ابراہیم سے) ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس بریفنگ میں کہا کہ اداروں کے خلاف بڑھتا ہوا پروپیگنڈا قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے اور ریاست کے خلاف بیانیہ پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جنرل ہیڈکوارٹر راولپنڈی میں اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اداروں کے خلاف پھیلایا جانے والا بیانیہ قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ ترجمان کے مطابق ایک مخصوص سیاسی فکر اور اس سے وابستہ بیانیہ ریاستی استحکام کو چیلنج کر رہا ہے، جسے مقامی و بیرونی عناصر سوشل میڈیا پر بڑھاوا دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلاف رائے جمہوری حق ہے مگر ریاست اور قومی اداروں پر حملہ کرنے کی آئین میں کوئی گنجائش موجود نہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ریاست کے خلاف نفرت انگیز بیانیہ دینے والے عناصر آئین اور قانون سے بالاتر ہو کر گفتگو کرتے ہیں، جبکہ پاکستان کے دشمن اس بیانیے کو سوشل میڈیا کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر پھیلاتے ہیں۔ ان کے مطابق بیرونی ممالک کے سینکڑوں اکاؤنٹس اس بیانیے کو ہوا دیتے ہیں اور مقامی بےنامی اور ٹرول نیٹ ورک اسے مزید بڑھاتے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ اس پروپیگنڈے کا مقصد عوام اور فوج کے درمیان فاصلے پیدا کرنا ہے، جو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی سلامتی کے خلاف کوئی بات برداشت نہیں کی جائے گی۔

ترجمان کے مطابق ایک وقت میں بجلی کے بل نہ دینے اور ترسیلات زر روکنے جیسے بیانات دیے گئے تاکہ ملک معاشی دباؤ میں آ جائے۔ اسی طرح سول نافرمانی کی ترغیب دی گئی اور عسکری قیادت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج نے "معرکۂ حق” میں دشمن کو شکست دی، دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دیں اور اب بھی خوارج کے خلاف ڈھال بنی ہوئی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاک فوج کسی زبان، گروہ یا سیاسی سوچ کی نمائندہ نہیں بلکہ ریاست پاکستان کی نمائندہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاست اور اداروں کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ہی عوام کو ریاستی اداروں کے خلاف بھڑکایا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاک فوج اور عوام کے درمیان دراڑ ڈالنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو گی۔

ترجمان نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں بعض حلقوں کی جانب سے عسکری قیادت اور اداروں کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا، جسے بھارتی میڈیا اور افغانستان کے مخصوص سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے بھرپور انداز میں آگے بڑھایا۔ ان کے مطابق بعض ممالک دشمنانہ سوچ کے تحت ایسے بیانیوں کو عالمی سطح پر پھیلاتے ہیں تاکہ پاکستان کو اندرونی طور پر کمزور کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات میں فوج پر حملے کیے گئے، قومی ورثے کی نشانیوں، شہدا کی یادگاروں اور حساس تنصیبات کو نقصان پہنچایا گیا، جو براہ راست ریاست پر حملے کے مترادف تھا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق اس سوچ نے ماضی میں بھی ملک کو نقصان پہنچایا اور آج بھی ایسے بیانیے کو تقویت دی جا رہی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اداروں کے خلاف پروپیگنڈا اس قدر بڑھ گیا کہ حال ہی میں جاری کیے گئے چیف آف ڈیفنس فورسز (CDF) کے نوٹیفکیشن پر بھی بے بنیاد دعوے کیے گئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاستی فیصلے آئینی اور قانونی تقاضوں کے مطابق ہوتے ہیں اور ان کے خلاف گمراہ کن مہم چلانا آزادیِ اظہار نہیں بلکہ ریاست دشمنی کے زمرے میں آتا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے پس منظر میں مسلح افواج نے 13 ہزار سے زائد آپریشن کیے، جبکہ گزشتہ 10 برس میں دو ہزار کے قریب دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔ نیشنل ایکشن پلان کے 14 نکات تمام اداروں کے مشترکہ اتفاق سے طے کیے گئے تھے، جن پر عمل درآمد جاری ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ اب تک 18 لاکھ افغان شہریوں کو وطن واپس بھیجا جا چکا ہے۔ خیبرپختونخوا پولیس کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ صوبے میں پولیس کو مضبوط بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟ کیا امن و امان کو سیاسی بیانیوں کی بھینٹ چڑھایا جا سکتا ہے؟

ترجمان نے زور دیا کہ ریاست کے فیصلے ہمیشہ ریاستی مفاد میں ہوتے ہیں، جبکہ پاک فوج ان فیصلوں پر عمل درآمد کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”ریاست ہر چیز سے بڑھ کر ہے، فوج ریاست کا ایک ادارہ ہے اور حکومت ہی ریاست کی نمائندہ ہوتی ہے۔“

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بعض سیاسی بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مذہبی انتہا پسند گروہوں کو اسپیس دینے، دہشت گرد گروہوں سے مذاکرات کرنے اور ان کے دفاتر کھولنے جیسے دعووں نے ملک کو نقصان پہنچایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی مسلح افواج دشمن کے سامنے سینہ سپر ہیں اور بھارت سمیت ہر دشمن کو بھرپور جواب دیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں