پنجاب بھر میں بلدیاتی ایکٹ 2021 کے تحت صوبہ بھرمیں میٹروپولٹین اور ضلع کونسل کا نظام لاگوہوگیا
لاہور ( مبشر بلوچ سے ) پنجاب بھر میں بلدیاتی ایکٹ 2021 کے تحت صوبہ بھر میں میٹرو پولٹین اور ضلع کونسل نظام لاگو کر دیا گیا میونسپل کارپوریشنیں ختم ہو گئیں 36 اضلاع میں 11میٹروپولٹن کارپوریشن اور 25 اضلاع میں ضلع کونسلیں بن گئیں ۔۔۔ ہر ضلع میں ایک ڈسٹرکٹ مئیر اور تحصیل میں ڈپٹی مئیر ہو گا ۔ سابقہ میونسپل کارپوریشن کا نیا نام یونٹ ہو گا ۔ پورے ضلع کا ایک ہی بجٹ ہو گا ۔ ضلع کونسل میں گریڈ 19 کے آفیسر کو چیف آفیسر تعینات کیا جائے گا یونٹ میں گریڈ 17 کا چیف آفیسر ہو گا تمام مالیاتی اختیار ضلع کونسل کے پاس ہوں گے یونٹ چیف آفیسر صرف حاضرہی چیک کر سکے گا ۔ 18 سے 20 ہزار آبادی پر ویلج اور نیبرہڈ کونسلیں بنا دی گئیں ۔ کسی بھی کونسل کے لیے چیرمین وائس چیرمین اور پانچ کونسلر ایک ہی پینل سے الیکشن لڑیں گے چیرمین اور وائس چیرمین کے جیتنے کی صورت میں تمام پینل کامیاب ہو جائے گا ۔ تحصیلوں کے مالیاتی اختیارات بھی ضلع کونسل کے پاس ہوں گے ۔ نئے نظام کے تحت سابقہ میونسپل کارپوریشنوں کے لگائے گئے اربوں روپے کے ترقیاتی ٹینڈر اب ختم تصور ہو سکتے ہیں کیونکہ نئے نظام میں ان کے بل کلئیر ہونے کا مسلہ بن سکتا ہے ۔ سیاسی ڈپٹی مئیر تحصیل یونٹ میں بیٹھیں گے لیکن ان کے پاس مالیاتی اور ترقیاتی اختیارات نہیں ہوں گے ۔ متعدد ضلع کونسلوں میں گریڈ 17 کے یونٹ آفیسرز کو ہی ضلع کونسل کے چیف آفیسر کا اضافی چارج دے دیا گیا ہے جسے بلدیاتی ایکٹ کے نافذ ہوتے ہی پہلی لاقانونیت قرار دیا جا سکتا ہے ۔