نسلہ ٹاورکو فوری طور پرعدالتی تحویل میں لینے کی ہدایت

کراچی (واصب ابراہیم غوری سے)سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے نسلہ ٹاور پلاٹ کو معاوضے سے مشروط کر دیا۔ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے نسلہ ٹاور کو فوری طور پرعدالتی تحویل میں لینے کی ہدایت کر دی،سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے نسلہ ٹاور کو پراپرٹی کیس سے منسلک کردیا۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے نسلہ ٹاور پلاٹ پر ناظر کو فوری کارروائی کاحکم دے دیا،نسلہ ٹاور کیس میں ایس بی سی اے افسران کے خلاف الگ سے مقدمہ درج کرنے کی بھی ہدایت کر دی گئی،عدالت نے ذمہ داران کے خلاف فیروز آباد تھانے میں الگ مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا۔

سپریم کورٹ نے اینٹی کرپشن حکام کو ذمہ داران کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کی،سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے عمل درآمد رپورٹس ایک ہفتے میں طلب کرلیں، عدالت نے چیئرمین اینٹی کرپشن، ڈی آئی جی شرقی کو اگلی سماعت پر رپورٹ کے ہمراہ طلب کر لیا۔

اٹارنی جنرل پاکستان خالد جاوید خان عدالت میں پیش ہوئے ،اور کہا کہ نسلہ ٹاور کا ملبہ سستے دام فروخت کرنے کی شکایات ہیں، ملبے سے ملنے والی آمدن الاٹیز کو ملنی چاہیے۔کمشنر کراچی نے کہا کہ نسلہ ٹاور کےپانچ فلور مکمل ختم کر دیئے۔

جسٹس قاضی محمد امین نے کمشنر کراچی سے استفسار کیا کہ کیا یہ رپورٹ آپ نے خود لکھی؟ کمشنر کراچی نے عدالت میں جواب دیا کہ ایک ٹی وی رپورٹر نے کام میں مداخلت کی، جسٹس قاضی محمد امین نے کہا کہ کیا آپ نے ان کے خلاف مقدمہ درج کیا؟ کیا بتانا چاہتے ہیں ایک رپورٹر آپ کی حکومت سے بڑا ہے؟

کمشنر کراچی نے کہا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی حکام نے بھی کام میں مداخلت کی، جسٹس قاضی محمد امین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے ان سب کے خلاف کوئی مقدمہ درج کیا؟ یہی وجہ ہے اس ملک میں نان اسٹیٹ ایکٹرز کام کر رہے ہیں۔

عدالت نے ڈی جی ایس بی سی اے کو روسٹرم پر طلب کرلیاچیف جسٹس گلزار احمد نے ڈی جی ایس بی سی اے سے استفسار کیا کہ آپ نے مداخلت کی؟ ڈی جی ایس بی سی اے نے عدالت میں کہا کہ ہماری طرف سے کسی قسم کی کوئی مداخلت نہیں کی گئی۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس جس نے مداخلت کی سب توہین عدالت کے مرتکب ہوئے، جسٹس قاضی محمد امین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سب کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ہونی چاہیے،آپ سرکاری افسر ہیں، کام میں مداخلت کی ہمت کیسے ہوئی؟

چیف جسٹس نے کمشنر کراچی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ چار سو مزدوروں سے ابھی عمارت نہیں گرائی، کمشنر کراچی نے کہا کہ عمارت مرحلہ وار گرا رہے ہیں،سولائزڈ طریقے سے کام کر رہے ہیں، چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو سولائزڈ طریقے سے نہیں کام کر رہے ان کے لیے کیا کر رہے ہیں؟

اپنا تبصرہ بھیجیں