مریم نواز اور پرویز رشید کی ایک اور مبینہ آڈیو لیک ہو گئی,آڈیوسنیے:
اسلام آباد: (یاسر ملک سے ) اکستان مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز شریف کی ایک اور مبینہ آڈیو منظر عام پر آگئی ہے۔ مبینہ آڈیو میں مریم نواز اور پرویز رشید گفتگو کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق لیک ہونے والی مبينہ آڈيو ميں مريم نواز شریف نے اخبار جنگ اور اس سے منسلک نیوز چینل جيو کيلئے ہدايات دیں۔ گفتگو ميں صحافيوں سے متعلق نازيبا الفاظ استعمال کيے گئے
مبینہ آڈیو میں بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ پرویز رشید کی آواز ہے جنہیں یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ حفيظ اللہ نيازی ہمارا نقطہ نظر نہيں ديتا۔
ماہر قانون بابر ستار سے متعلق اس مبینہ آڈیو میں پرویز رشید کا کہنا ہے کہ بابر ستار بھی ہے مگر وہ آزادانہ رائے رکھتا ہے، اسکور کارڈ ميں حسن نثار ہميں گالياں ديتے ہيں، باقی کوئی بندہ وہاں نہيں جس کو ہمارا اسپوک پرسن کہا جائے، حفيظ اللہ نيازی کو ہٹا ديا، اس کا کالم بھی بند کرديا۔
رویز رشید کے جواب میں مریم نواز شریف کہتی ہیں کہ یہ زیادتی اور ناانصافی ہے، انکل ميں پوچھوں گی کہ کيوں ہٹايا ہے، اس سے بھی بات کريں اور مير شکيل سے بھی کريں، جواباً پرویز رشید کہتے ہیں کہ ارشاد بھٹی کو ايڈ کرليا وہ بھی بری گفتگو کرتا ہے، مظہر عباس کی گفتگو ہمارے خلاف ہوتی ہے، طنز بھی ہوتا ہے اور مذاق بھی، اتنا بيلنس پروگرام ہے عمران خان کے اوپر جو چيک تھا وہ ختم کرديا، ہمارے اوپر بولنے والے چھوڑ ديئے۔
مبینہ آڈیو میں ن لیگی رہنما مریم نواز کہتی ہیں کہ يہ تو جانبداری ہے، ابو آذربائيجان سے دو باسکٹس لائے ہيں، ايک باسکٹ نصرت جاويد اور ايک رانا جواد کو دينی ہيں۔
لیک آڈیو پر رد عمل دیتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط شہباز گل کا کہنا تھا کہ تیسری بار مریم کی آڈیو لیک ہوئی ہے، آڈیو میں مریم نے آزادی صحافت کو لفافے سے ٹوکری میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ افسوسناک بات ہے کہ مریم نواز صحافیوں کیلئے نازیبا الفاط استعمال کرتی ہیں، اس آڈیو کے بارے میں پہلے ایک پریس کانفرنس میں ذکر کر چکا ہوں۔
واضح رہے کہ سیاسی منظر نامے سے منسلک آڈیو یا ویڈیو لیکس کا سلسلہ نیا نہیں، اس سے قبل بھی متعدد رہنماؤں اور دیگر شخصیات کی آڈیو اور ویڈیوز لیک ہوچکی ہیں۔