فیصل واوڈا کا بیان: فوج اور سپہ سالار کے خلاف بیانات پر ریاست کا سخت مؤقف سامنے آ گیا

faisal-vawda-statement-state-stance-security

یوتھ ویژن نیوز : سینیٹر فیصل واوڈا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ریاست نے واضح کر دیا ہے کہ فوج اور سپہ سالار کے خلاف بیانات برداشت نہیں کیے جائیں گے اور قومی سلامتی سے متعلق بیانیوں پر سخت پالیسی اپنائی جائے گی۔

سینیٹر فیصل واوڈا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ریاست نے واضح کر دیا ہے کہ فوج اور سپہ سالار کے خلاف بیانات کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے اور قومی سلامتی سے متعلق معاملات میں ہر قسم کی بے بنیاد مہم کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق ریاستی اداروں کے خلاف بیانیہ پھیلانے والے عناصر کے بارے میں مؤقف پہلے سے زیادہ واضح ہو چکا ہے اور آئندہ ان سرگرمیوں کو قومی مفاد کے خلاف سمجھا جائے گا۔

فیصل واوڈا نے دعویٰ کیا کہ بعض بیرونی قوتوں کے ساتھ مبینہ روابط کے ذریعے پیدا ہونے والے بیانیے کو ریاستی سطح پر سنگین قرار دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر چلنے والی کچھ مہمات پاکستان کے دشمن ممالک کی پالیسیوں سے مشابہت رکھتی ہیں اور ریاست کے مطابق ایسی سرگرمیاں غیر ذمہ دارانہ سیاسی طرزِ عمل کی نشاندہی کرتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ریاست نے یہ مؤقف اختیار کر لیا ہے کہ جو عناصر قومی سلامتی، فوج یا اس کی قیادت کے بارے میں غیر مصدقہ یا اشتعال انگیز بیانات دیتے ہیں، وہ دراصل دشمن کے بیانیے کو مضبوط کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ملکی حالات کے تناظر میں ریاستی ادارے اس تاثر کو ختم کرنا چاہتے ہیں کہ ملک کے دفاع سے متعلق معاملات سیاست کا حصہ بن سکتے ہیں۔

سابق وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ ملک کی سیاسی فضا میں بعض قوتیں بیرونی اثرات کے تحت اقدامات کر رہی ہیں، تاہم انہوں نے اس حوالے سے براہِ راست نام لینے سے گریز کیا۔ فیصل واوڈا نے کہا کہ ریاست نے قومی سلامتی کے معاملے پر واضح لائحہ عمل ترتیب دے دیا ہے اور مستقبل میں ایسے بیانات کو سختی سے دیکھنے کا امکان ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ وفاقی ادارے اور ریاستی مشینری اب ایسی مہمات کے بارے میں زیادہ حساس ہیں جو ملک میں عدم استحکام یا تقسیم پیدا کرنے کا باعث بنتی ہوں۔ واوڈا کے مطابق ریاستی سطح پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ قومی سلامتی کے خلاف کوئی بیانیہ یا اشتعال انگیز زبان برداشت نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصے میں بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے بیانات اور سوشل میڈیا سرگرمیوں نے ریاست کو اپنے مؤقف میں مزید سختی اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے۔ فیصل واوڈا نے دعویٰ کیا کہ ایسی مہمات میں ملوث افراد کے لیے مستقبل میں قانونی کارروائی کا امکان بھی موجود ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریاست نے ایسے افراد کے لیے واضح پیغام جاری کر دیا ہے جو ملکی اداروں کے خلاف پراپیگنڈا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 9 مئی کے واقعات، سوشل میڈیا مہمات اور بیرونی روابط سے متعلق اب ریاستی مؤقف پہلے سے کہیں زیادہ سخت ہے۔

فیصل واوڈا نے امید ظاہر کی کہ ریاست کا مضبوط ردِعمل مستقبل میں ایسے بیانیوں کے خاتمے میں مددگار ثابت ہو گا جو ملک میں انتشار یا بداعتمادی پھیلانے کا سبب بنتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں