رواں برس پاکستان میں ای کامرس کے زریعے تجارت کا ہدف 5ارب ڈالرمقرر
پشاور ( ثاقب ابراہیم غوری سے ) رواں سال پاکستان میں ای کامرس کے زریعے تجارت کا ہدف 5ارب ڈالر مقرر، جبکہ ای کامرس کے ذریعے 10 لاکھ سے زائد لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔ معاون خصوصی برائے ای کامرس سینیٹر عون عباس
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے ای کامرس سینیٹر عون عباس بپی کا صوبہ خیبر پختنخواہ کے دارلحکومت پشاور میں سرحد چیمبر آف کامرس کا دورہ۔ معاون خصوصی برائے ای کامرس سینیٹر عون عباس بپی نے صوبہ خیبر پختونخواہ اور بلخصوص پشاور سے تعلق رکھنے والے بزنس کمیونٹی سے ملاقات کی۔ چیمبر آف کامرس آمد پر صدر سرحد چیمبر آف کامرس عمران خان نے معاون خصوصی برائے ای کامرس سینیٹر عون عباس بپی کا استقبال کیا۔ اس ملاقات کا مقصد وزیر اعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق تجارت خصوصا گھریلو صعنتوں اور سمال انڈسٹریز کو ای کامرس کے زریعے تجارت کو فروغ دینا اور ای کامرس کی افادیت، اور ای کامرس کے مستقبل کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا اور ای کامرس کے زریعے تجارت کے حوالے سے آنے والے مسائل سے متعلق تجاویز حاصل کرنا تھا۔
چیمبر کے معزز اراکین سے بات کرتے ہویے معاون خصوصی نے کو ای کامرس کی اہمیت، افادیت اور مستقبل کے حوالے سے بریف کرتے ہوئے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے ای کامرس سینیٹر عون عباس بپی نے کہا کہ تجارت کا مستقبل اب ای کامرس سے وابستہ ہے۔ 2019ء میں کورونا کی عالمی وباء اور لاک ڈاؤن نے ای کامرس کی اہمیت کو دنیا بھر میں اجاگر کر دیا ہے۔ ای کامرس اس وقت دنیا کی حقیقت ہے۔ بین الاقومی سطح پر ای کامرس کے زریعے کاروبار کا حجم 30 کھرب ڈالر سے زائد ہو چکا ہے جس میں بزنس ٹو بزنس کا حجم 25 کھرب ڈالر جبکہ بزنس ٹو کنزیومر کے کاروبار کا حجم 5 کھرب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ پاکستان میں ای کامرس کے زریعے رواں سال 4 ارب ڈالر کا کاروبار ہوا۔ جو مستقبل میں پاکستان میں ای کامرس کے فروغ کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت نے ای کامرس کے حوالے سے جامع پالیسی کا اجراء کر دیا ہے۔ اور ای کامرس کےپالیسی کے ذریعے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ملکر ایز آف ڈوئنگ بزنس کے لئے سنجیدہ اقدامات کیے جارہے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کی مدد سے ایس آر او 1300 پہلے جاری کیا جاچکا ہے جس کی وجہ سے فری لانسرز کے پے منٹ کی حد کو 5 ہزار ڈالر سے بڑھا کر 25 ہزار ڈالر کر دیا گیا ہے جبکہ ای کامرس کے ذریعے پارسل کی ترسیل کے ای فارم کی شرط کو بھی ختم کر دیا گیا ہے۔ ای کامرس کی مربوط پالیسی کے ثمرات اب سامنے آنے لگے ہیں رواں مالی سال میں ابتک پاکستان کی ای کامرس بزنس سے منسلک مختلف کمپنیوں میں وینچر کیپیٹل کے تحت 364 ملین ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری کی گئی ہے جو کہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے۔ وزیر اعظم عمران خان ای کامرس کی افادیت اور اہمیت کو سمجھتے ہیں اس لئے انہوں نے مجھے خصوصی طور پر یہ ٹاسک دیا ہے کہ میں ای کامرس کے حوالے سے اس شعبہ سے جڑے لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کروں۔ تاکہ ملکی معیشت میں بہتری ائے اور لوگوں کا معیار زندگی بھی بلند ہو۔ ای کامرس اور فری لانسرز کے ذریعے تقریبا 15 لاکھ سے زائد پاکستانی اس شعبے سے روزگار حاصل کر رہے ہیں۔ اورپاکستان فری لانس مارکیٹ میں ہیومین ریسورس فراہم کرنے والا دنیا تیسرا بڑا ملک ہے۔ ملک بھر میں نوجوانوں اور خواتین کو ای کامرس کے ذریعے خوشحال اور خودمختار بنانے کے حوالے سے کئی ایک سنجیدہ اقدامات کئے جارہے ہیں۔ تاکہ یہ لوگ خودکفیل ہو کر پاکستانی معیشت میں اپنا مثبت کردار ادا کر سکیں۔ اس ضمن میں مختلف اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ملکر پبلک اینڈ پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت ملک بھر کے دور افتادہ علاقوں میں جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی اور مفت انٹرنیٹ سروز کے فراہمی کے حوالے سے ٹیکنالوجی حب قائم کئے جارہے ہیں۔ پاکستان کی پہلی ای کامرس یونیورسٹی کا قیام بھی عمل میں لایا جارہا ہے۔ اس یونیورسٹی کے تحت ملک بھر میں موجود افراد خصوصا خواتین اور نوجوانوں کو گھر بیٹھے آن لائن مفت تربیتی کورسز میسر آئیں گے۔ جن سے وہ سیکھ کر آن لائن کمائی کرسکتے ہیں۔ پاکستان پوسٹ اور دیگر جی لاجسٹک کمپنیوں کے ساتھ ملکر سنگل پارسل کی ترسیل کے حوالے سے بھی حکمت عملی تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ تاکہ کوئی بھی شخص گھر بیٹھے اپنی بنائی ہوئی مصنوعات دنیا بھر میں فروخت کرسکے۔ پے منٹ گیٹ ویز اور آن لائن پے منٹ کے حوالے سے بھی اسٹیٹ بینک اور مختلف اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ملکر کئی ایک سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات کیے گئے ہیں۔ فری لانسر اور ورچول اسسٹنس ٹریننگ کے حوالے سے نیشل ای کامرس کونسل کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے تاکہ ملک میں مارکیٹ کی ڈیمانڈ کے مطابق ہی ٹریننگ اور ہومین ریسورس کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔ انکم ٹیکس کے حوالے سے ایف بی آر اور صوبائی ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ ملکر یکساں پالیسی ترتیب دینے کے حوالے سے بھی مختلف تجاویز زیر غور ہیں۔ ای کامرس کی کمپنی رجسٹریشن کے حوالے سے سکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے تعاون سے آن لائن رجسٹریشن کا نظام پہلے ہی متعارف کروایا جاچکا ہے۔ اس سال ای کامرس کے زریعے تجارت کا ہدف 5 ارب ڈالر رکھا گیا ہے جس کو اس سال ہر حال عبور کیا جائے گا۔ جبکہ ای کامرس بزنس کے زریعے موجودہ سال میں مزید 10 لاکھ لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔ عام شخص کے لئے عوام دوست ای پورٹل متعارف کروا رہے ہیں جہاں آسان زبان میں ویڈیوز کی مدد سے ای کامرس کی افادیت،کاروبار کے رجسٹریشن کے طریقہ کار سے لیکر پارسل اور پے منٹ کی وصول تک تمام طریقہ کار دستیاب ہونگے اورمتعلقہ اداروں سے رئیل ٹائم سپورٹ بھی میسر آئے گی۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی نے اس تقریب کے انعقاد پر سرحد چیمبر آف کامرس کے عہدیداران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پبلک اینڈ پرائیویٹ پارٹنرشپ اور اصل اسٹیک ہولڈرز کی مدد سے ہم ای کامرس کے زریعے تجارت کے فروغ کو یقینی بنا سکتے ہیں جس سے یقین ملکی معیشیت کو استحکام حاصل ہوگا اور بے روزگاری کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔ تقریب کے آخر میں سرحد چیمبرآف کامرس کی جانب سے معاون خصوصی برائے ای کامرس سینیٹر عون عباس بپی کو چیمبر آمد پر یادگاری شیلڈ پیش کی گئی۔