خیبرپختونخوا حکومت کا 9 اور 10 مئی کے مقدمات ختم کرنے کا فیصلہ، صوبائی کابینہ نے منظوری دے دی

kp-govt-drops-may-9-10-cases-cabinet-approval

یوتھ ویژن نیوز : (واصب ابراہیم سے) خیبرپختونخوا حکومت نے 9 اور 10 مئی کے مقدمات ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے صوبائی کابینہ سے منظوری لے لی۔ ایڈووکیٹ جنرل آفس کو مقدمات واپس لینے کی سفارشات تیار کرنے کی ہدایت کر دی گئی۔

خیبرپختونخوا حکومت نے نگران دور میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف درج 9 اور 10 مئی کے مقدمات ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا، جس کی باقاعدہ منظوری صوبائی کابینہ نے دے دی ہے۔ کابینہ اجلاس کے بعد معاونِ خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے میڈیا کو بتایا کہ ایڈووکیٹ جنرل آفس کو مقدمات واپس لینے کے لیے سفارشات تیار کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔

شفیع جان کے مطابق 9–10 مئی کے مقدمات میں نامزد ارکانِ اسمبلی اور کارکنوں کے خلاف قانونی کارروائی کی صورت میں نااہلی کا خطرہ موجود تھا، جسے مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ اہم قانونی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں اس معاملے پر تفصیلی غور کے بعد اتفاقِ رائے سے منظوری دی گئی۔

معاونِ خصوصی نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی زیر صدارت ہونے والے کابینہ اجلاس میں صوبے میں گندم کے ذخائر، بین الصوبائی نقل و حمل اور آئندہ حکمت عملی سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ اضافی گندم کی خریداری کے لیے پہلے سے قائم کمیٹی کو ضرورت پڑنے کی صورت میں فوری اقدامات کا اختیار بھی دیا گیا۔

اجلاس میں کڈنی اور بون میرو ٹرانسپلانٹ کے دو مریضوں کے لیے مالی امداد کی منظوری بھی دی گئی۔ اسی طرح جاری منصوبوں کی رفتار تیز کرنے کے لیے ضلعی ترقیاتی پروگرام کے فنڈز کی فراہمی کی منظوری دی گئی، جب کہ انسدادِ دہشت گردی (CTD) کے لیے 150 ملین روپے کی خصوصی گرانٹ منظور کی گئی۔

معاونِ خصوصی شفیع جان کے مطابق کابینہ نے ایکشن اِن ایڈ آف سول پاورز قانون کے خاتمے سے متعلق کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد کی بھی منظوری دے دی۔ اس کے علاوہ ریڈیو پاکستان پشاور واقعے کی انکوائری صوبائی اسمبلی کی اسپیشل کمیٹی کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 41 واں اجلاس بھی ہوا، جس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے بعض وفاقی وزرا کے بیانات کو "نامناسب اور غیر اخلاقی” قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسی پریس کانفرنسز حالات کو مزید خراب کرنے کا سبب بنتی ہیں۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ صوبائی حکومت پہلے ہی گڈ گورننس روڈ میپ کا اعلان کر چکی ہے، جس کے تحت سرکاری اجلاسوں میں سول افسران آن لائن شرکت کو ترجیح دیں گے تاکہ اخراجات میں کمی آئے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے بھر کے سرکاری، نیم سرکاری اور خود مختار اداروں میں بھرتیاں صرف ایٹا کے ذریعے ہوں گی اور کسی نجی ٹیسٹنگ ایجنسی کو استعمال نہیں کیا جائے گا۔

نیشنل فنانس کمیشن (NFC) سے متعلق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ اجلاس میں صوبے کا مؤقف بھرپور انداز میں پیش کیا گیا اور تمام شرکا نے خیبرپختونخوا حکومت کے نقطہ نظر سے اتفاق کیا۔ ان کے مطابق ضم شدہ اضلاع کا NFC شیئر شامل نہ ہونے سے صوبے کو تقریباً 1375 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔

طورخم بارڈر کی بندش کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ اس سے ڈرائیور، خواتین، بچے اور بزرگ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے ضلع خیبر کی انتظامیہ کو ہدایت دی کہ بارڈر پر پھنسے افراد کو کھانے پینے اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کی جائیں۔ صوبے میں سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں وزیراعلیٰ نے سول افسران—خصوصاً ضلعی انتظامیہ—کو بلٹ پروف گاڑیاں فراہم کرنے کا فیصلہ کیا اور کہا کہ خریداری میں حائل تمام رکاوٹیں فوری طور پر دور کی جائیں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں