جیل رولز کے مطابق عمران خان سیاسی گفتگو نہیں کر سکتے، ملاقات کی تفصیل بھی پبلک نہیں ہو سکتی: وفاقی وزیر قانون

اسلام آباد میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی پریس کانفرنس کا منظر۔

یوتھ ویژن نیوز : (واصب ابراہیم ) وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ جیل رولز کے مطابق عمران خان سیاسی گفتگو نہیں کر سکتے اور ملاقات کی تفصیل بھی عوامی نہیں کی جا سکتی۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان جیل رولز کے مطابق ملاقات کے دوران کسی بھی قسم کی سیاسی گفتگو نہیں کر سکتے اور نہ ہی ملاقات میں ہونے والی بات چیت کو عوام کے سامنے لایا جا سکتا ہے، کیونکہ جیل مینوئل میں یہ اصول واضح طور پر درج ہے۔ اسلام آباد میں وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں عمران خان کی جیل ملاقاتوں کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں گردش کر رہی ہیں، تاہم قواعد کے مطابق ایک سزا یافتہ قیدی ہفتے میں صرف ایک بار چھ افراد سے ملاقات کر سکتا ہے، ایک خط لکھ سکتا ہے اور ملاقات بھی سپرنٹنڈنٹ کی نگرانی میں ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رول 557 کے تحت سپرنٹنڈنٹ کو اختیار ہے کہ اگر کسی ملاقات سے امن و امان میں خلل یا انتشار کا خدشہ ہو تو ملاقات ختم یا منسوخ کر سکتا ہے، اسی لیے جیل میں بغیر نگرانی ملاقات کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ موجودہ تنقید کے باوجود یہ رولز دہائیوں سے نافذ ہیں، یہاں تک کہ نواز شریف اور مریم نواز بھی ایک ہی جیل میں موجود ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے نہیں مل سکتے تھے، ہم وکلا کو بھی ہفتے میں صرف ایک گھنٹے کی ملاقات دی گئی تھی اور اس کے لیے باقاعدہ انڈرٹیکنگ بھی طلب کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی خود بطور وزیراعظم جیل قوانین کے حق میں بیانات دیتے رہے ہیں، امریکا میں ایک تقریب کے دوران انہوں نے جیلوں میں پنکھے اتروانے کی بات بھی کی تھی۔

اس موقع پر وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا کہ عمران خان 190 ملین پاؤنڈ میگا کرپشن کیس میں سزا یافتہ ہیں اور ملکی تاریخ میں کسی قیدی کو ان جیسی سہولیات نہیں دی گئیں، نہ کسی کو قید میں بائیسکل ملی اور نہ ہی ایسی خصوصی مراعات دی گئیں، وہ خود اعتراف کرتے رہے ہیں کہ وہ جیل میں اے سی اتروانے کی بات کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی خاتون رہنما نے بھارتی اور افغان میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی زندگی کو خطرہ قرار دے کر منفی پروپیگنڈا کیا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف عمران خان کو اضافی سہولیات میسر ہیں بلکہ ان کی تینوں بہنیں باقاعدگی سے ملاقات کرتی ہیں اور باہر آ کر سیاسی بیانیہ پھیلاتی ہیں، اسی لیے رولز کی خلاف ورزی پر عظمیٰ خان کی ملاقات بند کر دی گئی ہے۔

عطا تارڑ نے کہا کہ جیل کے باہر اگر کسی نے امن و امان کا مسئلہ پیدا کیا تو سختی سے نمٹا جائے گا، ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور اگر کسی نے جیل توڑنے جیسی حرکت کا سوچا بھی تو ریاست اپنا ردعمل ضرور دکھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایک شخص جو 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں سزا یافتہ ہے وہ جیل میں بیٹھ کر ریاستی اداروں کے خلاف بیانیہ نہیں بنا سکتا، ملاقاتوں کا مقصد سیاسی مہم نہیں بلکہ قانونی اور گھریلو نوعیت کی گفتگو تک محدود ہوتا ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ این ایف سی اجلاس میں شریک ہوئے جو خوش آئند ہے، انہیں چاہیے کہ وہ ایپکس کمیٹی سمیت دیگر فورمز میں بھی اپنا کردار ادا کریں کیونکہ وفاق اور صوبے کی بہتری مشترکہ تعاون سے ممکن ہے۔ ایک سوال کے جواب میں عطا تارڑ نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ایکس“ پر اب فیچر فعال ہوچکا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کے آدھے اکاؤنٹس بھارت اور آدھے افغانستان سے چل رہے ہیں، اس میں کوئی ابہام نہیں رہا کہ کون سے بیانیے بیرون ملک سے کنٹرول ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں آئین اور قانون موجود ہے اور کسی سزا یافتہ شخص کو اجازت نہیں کہ وہ اپنی ذات کے مفاد کے لیے ملکی اداروں کو نشانہ بنائے یا ریاست کو کمزور کرنے کی کوشش کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں