اسلام آباد کو کیش لیس ماڈل سٹی بنانے کا فیصلہ، چیف کمشنر رندھاوا
یوتھ ویژن نیوز (خصوصی رپورٹر): چیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا نے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت کو مرحلہ وار کیش لیس اکانومی کے ماڈل شہر کے طور پر ڈھالا جا رہا ہے، جہاں شہریوں، تاجروں اور دکانداروں کو ادائیگیوں کے جدید اور محفوظ ڈیجیٹل ذرائع مہیا کیے جائیں گے۔
کیش لیس ماڈل سٹی کا ویژن انہوں نے اسلام آباد میں کیش لیس اکانومی کے فروغ سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کمرشل بینکس، متعلقہ محکموں اور اسٹیک ہولڈرز کو ہدایت کی کہ وہ مرچنٹس اور صارفین دونوں کو ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹمز کے بارے میں پوری آگاہی دیں اور انہیں کیش کے بجائے QR کوڈ اور آن لائن ادائیگیوں کی طرف منتقل کرنے کیلئے آسان، سستی اور پرکشش سہولتیں فراہم کریں۔ تاجروں اور دکانداروں کیلئے سہولت و مراعات محمد علی رندھاوا نے واضح کیا کہ تمام سٹیک ہولڈرز، دکانداروں اور تاجروں کے ساتھ مل کر ایسا نظام تشکیل دیا جائے جس میں خریدار اگر راست QR کوڈ یا دیگر ڈیجیٹل چینلز کے ذریعے ادائیگی کرے تو اسے مناسب رعایت، لائلٹی پوائنٹس یا خصوصی آفرز دی جائیں، تاکہ مارکیٹ خود بخود کیش لیس ٹرانزیکشن کی طرف رجحان اختیار کرے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد صرف نظام بدلنا نہیں بلکہ اعتماد، شفافیت اور آسانی کے ذریعے عوام کو قائل کرنا ہے۔
ڈیجیٹل اسلام آباد کی طرف عملی پیش رفت چیف کمشنر نے بتایا کہ وفاقی دارالحکومت کو ڈیجیٹل شہر بنانے کیلئے کیش لیس اکانومی کے ساتھ ساتھ ایم ٹیگ، ڈیجیٹل پارکنگ، آن لائن فیس جمع کرانے کے سسٹم اور اسمارٹ سٹی نوعیت کے دیگر منصوبے بھی متعارف کروائے جا رہے ہیں، تاکہ ٹریفک مینجمنٹ، ریونیو کلیکشن اور شہری سہولتوں میں جدیدیت اور شفافیت آئے۔ بینکس اور اداروں کا کردار اجلاس میں موجود کمرشل بینکس اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ مارکیٹ، شاپنگ پلازہ، فوڈ پوائنٹس اور دیگر کمرشل ایریاز میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کیلئے انفراسٹرکچر، POS مشینیں، QR کوڈ اسٹینڈز اور آگاہی مہم تیز کریں، تاکہ اسلام آباد واقعی کیش لیس ماڈل سٹی کے طور پر ایک نمایاں مثال بن سکے۔