فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج نے افغان اشتعال انگیزی کا بھرپور جواب دیا، وزیرِ اعظم شہباز شریف
یوتھ ویژن نیوز : (ڈاکٹر ثاقب ابراہیم سے ) وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پاکستان کے سرحدی علاقوں میں افغانستان کی اشتعال انگیزی کی شدید مذمت کرتے ہوئے پاک فوج کی پیشہ ورانہ مہارت اور فوری ردِعمل کو سراہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی بے باک قیادت میں پاک فوج نے دشمن کو مؤثر اور فیصلہ کن جواب دیا، جس کے نتیجے میں افغانستان کی متعدد چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا اور انہیں پسپائی پر مجبور ہونا پڑا۔
پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے
وزیرِ اعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’پاکستان کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ہماری سرزمین کی حفاظت اور عوام کے تحفظ کے لیے پاک فوج ہمہ وقت تیار ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ پاک فوج نے ہمیشہ قومی خودمختاری اور جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ کے لیے اپنی جانیں قربان کیں اور ہر بیرونی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ ’’ہماری افواج نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور حوصلے سے ثابت کیا ہے کہ پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔‘‘
انہوں نے پاک فوج، رینجرز اور سیکیورٹی اداروں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ قوم ان کی قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے۔
افغان اشتعال انگیزی کا پس منظر
حالیہ ہفتوں میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، افغان سرزمین سے پاکستانی سرحدی علاقوں پر فائرنگ اور دہشتگرد حملوں کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے، جن کے نتیجے میں پاکستانی فورسز نے جوابی کارروائی کی۔
وزیرِ اعظم کے مطابق، ’’پاک فوج نے دشمن کے حملے کا بھرپور جواب دیا اور افغان علاقے میں موجود دہشتگرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ پرامن ہمسائیگی کی پالیسی پر عمل کیا ہے، لیکن کسی اشتعال انگیزی کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
وزیرِ اعظم کا افغان حکومت سے دوٹوک پیغام
شہباز شریف نے اپنے بیان میں افغان نگران حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگرد سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔
انہوں نے کہا کہ ’’پاکستان نے بارہا افغانستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے حوالے سے ٹھوس معلومات فراہم کی ہیں۔ دہشتگرد تنظیموں کو افغان سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہیں، جو پاکستان کے امن کے لیے خطرہ ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ پاکستان توقع رکھتا ہے کہ افغان قیادت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔
وزیرِ اعظم نے عالمی برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ افغانستان پر دباؤ ڈالے تاکہ دہشتگرد گروہوں کو غیرجانبدار کارروائیوں سے باز رکھا جا سکے۔
فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت — عزم اور حوصلے کی علامت
وزیرِ اعظم نے کہا کہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج نے جس پیشہ ورانہ انداز اور حکمتِ عملی سے جواب دیا، وہ پوری قوم کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’جنرل عاصم منیر نے نہ صرف دشمن کو واضح پیغام دیا بلکہ دنیا کو باور کرا دیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔‘‘
تجزیہ کاروں کے مطابق، جنرل منیر کی قیادت میں پاک فوج نے پچھلے ایک سال کے دوران سرحدی اور داخلی سیکیورٹی دونوں محاذوں پر نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
ان کے فیصلوں نے انسدادِ دہشتگردی پالیسی کو مؤثر بنایا اور قومی سلامتی کے اداروں کے باہمی ہم آہنگی میں اضافہ کیا۔
قوم متحد ہے — حکومت اور عوام کا واضح پیغام
شہباز شریف نے کہا کہ پوری قوم پاک فوج اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’پاکستان ایک پرامن ملک ہے، لیکن اگر کسی نے ہمارے دفاع کو چیلنج کیا تو جواب اسی زبان میں دیا جائے گا۔‘‘
وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ حکومت، افواجِ پاکستان اور عوام ایک صفحے پر ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ’’ہم امن چاہتے ہیں مگر کمزوری نہیں دکھائیں گے۔ پاکستان کے دفاع کے لیے آخری حد تک جائیں گے۔‘‘
علاقائی سلامتی کی صورتحال
ماہرین کے مطابق، پاک افغان تعلقات میں حالیہ کشیدگی کی بڑی وجہ سرحدی فائرنگ، دہشتگردی اور غیر ریاستی عناصر کی کارروائیاں ہیں۔
پاکستان متعدد بار افغان حکام کو اس حوالے سے احتجاجی مراسلے ارسال کر چکا ہے، تاہم مؤثر اقدامات نہ ہونے کے باعث سرحدی جھڑپوں میں اضافہ ہوا ہے۔
بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا حالیہ مؤقف سخت مگر ذمہ دارانہ ہے، جو خطے میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے کی خواہش کے ساتھ خودمختاری کے تحفظ کا عزم بھی ظاہر کرتا ہے۔