امریکی اتحادیوں کا آبنائے ہرمز میں جنگی مدد سے انکار

امریکی اتحادیوں اور ٹرمپ کی نمایاں تصؤیر کی فائل فوٹؤ

یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران کئی امریکی اتحادی ممالک نے واضح کر دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں جنگی جہاز بھیج کر امریکی کارروائیوں میں حصہ نہیں لیں گے۔ یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اہم سمندری گزرگاہ کو کھلا رکھنے کے لیے فوجی تعاون کی درخواست کی تھی، جسے یورپی اور دیگر اتحادی ممالک نے مسترد کر دیا۔

یورپی یونین اور جرمنی کا موقف

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں موجود بحری مشن مضبوط ہو، تاہم فی الحال اس مشن کو آبنائے ہرمز تک پھیلانے کا کوئی ارادہ نہیں۔ جرمن وزیر خارجہ جوہان وڈیفول نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے جنگ شروع کرنے سے قبل مشاورت نہیں کی، اس لیے جرمنی اس مشن میں حصہ نہیں لے گا۔ جرمن وزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے بھی واضح کیا کہ جرمنی آبنائے ہرمز کی حفاظت کے لیے فوجی مدد فراہم نہیں کرے گا اور یہ امریکا کی جنگ ہے، نہ کہ ان کی۔

برطانیہ کی پوزیشن

برطانیہ کے وزیر اعظم سر کیئر سٹارمر نے کہا کہ برطانیہ کی ترجیح اپنے شہریوں کی حفاظت ہے اور اس نے 92 ہزار شہریوں کو واپس لا لیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ برطانیہ اس بڑی جنگ میں شامل نہیں ہوگا، تاہم تنازع ختم ہونے کے بعد ایران کے جوہری پروگرام اور بین الاقوامی جہاز رانی کو محفوظ بنانے کے لیے کسی معاہدے کی ضرورت ہو گی۔

دیگر یورپی ممالک کی پالیسی

سپین نے کہا کہ وہ کسی ایسا اقدام نہیں کرے گا جس سے تنازع مزید بڑھ جائے، جبکہ اٹلی نے فوجی کارروائی میں شامل ہونے سے صاف انکار کیا اور سفارت کاری کو درست راستہ قرار دیا۔ یونان، آسٹریلیا اور جاپان نے بھی آبنائے ہرمز میں کسی فوجی کارروائی میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا۔

ایران اور اسرائیل کی کارروائیاں

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ آبنائے ہرمز دشمنوں کے لیے بند رہے گی اور ایران جنگ بندی کی درخواست نہیں کرے گا۔ ایران نے مزید کہا کہ امریکا سے مذاکرات کی کوئی ضرورت نہیں، وہ اپنے دفاع کے لیے ڈٹے رہیں گے۔ اسرائیل نے تہران، شیراز اور تبریز میں فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کیا، جبکہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کو روکنے کا دعویٰ کیا۔

امریکی صدر ٹرمپ کا ردعمل

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی اتحادیوں پر تنقید کی کہ وہ آبنائے ہرمز کی حفاظت کے لیے امریکی اپیل پر گرمجوشی کا مظاہرہ نہیں کر رہے۔ انہوں نے کہا کہ فرانس اور برطانیہ کچھ حد تک شامل ہوں گے، تاہم برطانوی وزیراعظم کیر سٹارمر پر سخت ردعمل دیا اور کہا کہ وہ 40 سال سے امریکا کی حفاظت کر رہے ہیں لیکن اب اتحادی ہمارے ساتھ شامل نہیں ہونا چاہتے۔

عالمی اثرات

ٹرمپ نے کہا کہ اگر امریکی اتحادی خلیج ہرمز کھولنے میں مدد نہیں کریں گے تو نیٹو کا انجام بہت برا ہوگا۔ اس علاقے کی بندش نے دنیا بھر میں توانائی کی قیمتوں کو بلند کر دیا، جس سے عالمی معاشی استحکام پر خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں