امریکی افغانستان جنگ کمیشن کی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات، پاکستان نے افغان جنگ کا مؤقف پیش کردیا

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی افغانستان جنگ کمیشن کے وفد سے ملاقات

یوتھ ویژن نیوز 🙁 راولپنڈی)- امریکی افغانستان جنگ کمیشن کے شریک چیئرز شمیلا این چودھری اور ڈاکٹر کولن ایف جیکسن کی قیادت میں ایک وفد نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی۔ ملاقات میں افغانستان میں امریکا کی 20 سالہ شمولیت کے جائزے، پاکستان کی معاونت، علاقائی سیکیورٹی صورتحال اور افغانستان میں ہونے والی پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

امریکی افغانستان جنگ کمیشن اس وقت افغانستان میں امریکا کی طویل فوجی، سفارتی اور تزویراتی شمولیت کا جامع جائزہ لے رہا ہے۔ کمیشن کے دورہ پاکستان کا مقصد افغان تنازع کے دوران پاکستان کے کردار، تجربات اور خطے پر مرتب ہونے والے اثرات سے متعلق نقطۂ نظر حاصل کرنا بھی ہے۔

عاصم منیر نے پاکستان کا مؤقف پیش کردیا

آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے افغان تنازع کے دوران سیکیورٹی کی صورتحال کو متاثر کرنے والے عوامل کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔ انہوں نے طویل افغان جنگ کے دوران پاکستان کو درپیش مختلف چیلنجز کو بھی اجاگر کیا۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس امر پر زور دیا کہ افغانستان میں امریکی مداخلت اور دو دہائیوں پر محیط تنازع کا جائزہ لیتے ہوئے صرف جنگی یا عسکری پہلوؤں تک محدود رہنے کے بجائے علاقائی نقطۂ نظر اور پاکستان کے عملی تجربات کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق تنازع کے تزویراتی، سفارتی اور آپریشنل پہلوؤں کا جامع جائزہ اسی صورت میں ممکن ہے جب خطے کے ممالک کے تجربات کو مناسب اہمیت دی جائے۔

20 سالہ افغان جنگ کا جائزہ

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی افغانستان جنگ کمیشن کے وفد سے ملاقات
امریکی افغانستان جنگ کمیشن کی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات، پاکستان نے افغان جنگ کا مؤقف پیش کردیا

امریکی افغانستان جنگ کمیشن افغانستان میں امریکا کی تقریباً دو دہائیوں پر محیط شمولیت کا جائزہ لے رہا ہے۔ اس جائزے میں جنگ سے متعلق تزویراتی فیصلوں، سفارتی کوششوں، فوجی کارروائیوں اور دیگر اہم پہلوؤں پر غور کیا جا رہا ہے۔

پاکستان کے لیے یہ جائزہ اس لیے بھی اہم ہے کہ افغان تنازع کے دوران پاکستان خطے میں ایک اہم پڑوسی ملک اور سیکیورٹی شراکت دار کے طور پر مختلف مراحل سے گزرا۔ کمیشن کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں اسی پس منظر میں پاکستان کی معاونت اور تنازع کے علاقائی اثرات پر بات چیت ہوئی۔

علاقائی سیکیورٹی اور افغانستان میں پیش رفت زیر بحث

آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، پاکستان کی جانب سے دی جانے والی معاونت، خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور افغانستان میں ہونے والی پیش رفت پر گفتگو ہوئی۔ بات چیت میں کمیشن کے کام سے متعلق مختلف پہلوؤں اور نقطۂ نظر کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی۔

موجودہ علاقائی صورتحال میں افغانستان سے متعلق سیکیورٹی معاملات کی اہمیت بدستور برقرار ہے۔ اسی وجہ سے امریکی کمیشن کی پاکستان میں اعلیٰ عسکری حکام سے ملاقات کو افغان جنگ کے جائزے کے حوالے سے اہم مشاورت کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی وفد نے پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کیا

آئی ایس پی آر کے مطابق امریکی وفد نے افغانستان میں جاری رہنے والے تنازع کے دوران پاکستان کے دیرینہ کردار اور دی جانے والی قربانیوں کو تسلیم کیا۔ وفد نے خطے میں امن اور استحکام کے لیے پاکستان کی مسلسل خدمات کو بھی سراہا۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان طویل سرحد اور گزشتہ دو دہائیوں کے دوران پیدا ہونے والی سیکیورٹی صورتحال کے باعث افغان جنگ کے اثرات پاکستان تک بھی پہنچتے رہے۔ امریکی کمیشن کی جانب سے پاکستان کے تجربات کو اپنے جائزے میں شامل کرنا اسی علاقائی تناظر میں اہم قرار دیا گیا ہے۔

پاکستان کے تجربات کو شامل کرنے پر زور

ملاقات میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ افغان جنگ کا جائزہ وسیع علاقائی تناظر کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے پاکستان کے تجربات، تنازع کے دوران درپیش سیکیورٹی چیلنجز اور جنگ کے سفارتی و آپریشنل اثرات کو جائزے کا حصہ بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق فیلڈ مارشل نے امریکی کمیشن کو یہ مؤقف دیا کہ افغان تنازع کے تزویراتی، سفارتی اور آپریشنل پہلوؤں کے جائزے میں علاقائی تناظر کو نمایاں اہمیت دی جانی چاہیے۔

افغان جنگ کے بعد بھی علاقائی اثرات برقرار

افغانستان میں امریکا کی 20 سالہ مداخلت کے اختتام کے باوجود جنگ کے سیاسی اور سیکیورٹی اثرات خطے میں مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ پاکستان کے لیے افغانستان سے جڑی سرحدی سیکیورٹی، دہشتگردی اور علاقائی استحکام کے معاملات بدستور اہم ہیں۔

امریکی افغانستان جنگ کمیشن کی جانب سے پاکستان کے اعلیٰ عسکری حکام سے مشاورت اس وسیع جائزے کا حصہ ہے جس میں جنگ کے مختلف پہلوؤں کو دوبارہ جانچا جا رہا ہے۔ تاہم کمیشن کی حتمی رپورٹ اور اس میں پاکستان کے مؤقف کو کس حد تک جگہ دی جاتی ہے، اس کا فیصلہ اس کے مکمل جائزے کے بعد سامنے آئے گا۔

حوالہ: آئی ایس پی آر

اپنا تبصرہ بھیجیں