اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو اچانک ابوظہبی پہنچ گئے، اماراتی صدر سے ملاقات
یوتھ ویژن نیوز : (ابوظہبی)- اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نتن یاہو نے 27 ستمبر 2026 کو متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی کا دورہ کیا اور اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے ملاقات کی۔ ملاقات کی تصدیق ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے کی، تاہم فوری طور پر نہ اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر اور نہ ہی اماراتی وزارت خارجہ کی جانب سے اس ملاقات پر باضابطہ بیان جاری کیا گیا۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ دورہ غیر اعلانیہ تھا۔ چینل 12 نے رپورٹ کیا کہ نتن یاہو خصوصی طیارے کے ذریعے صبح اسرائیل سے روانہ ہوئے، ابوظہبی میں دن گزارا اور اسی روز واپس اسرائیل روانہ ہوگئے۔ رپورٹ کے مطابق ملاقات کا بڑا حصہ دونوں رہنماؤں کے درمیان نجی گفتگو پر مشتمل تھا، تاہم اس کے ایجنڈے یا زیر بحث آنے والے معاملات کی تفصیلات فوری طور پر منظر عام پر نہیں آئیں۔
نتن یاہو کے ابوظہبی دورے کی تصدیق
رائٹرز کے مطابق ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے تصدیق کی کہ نتن یاہو نے اتوار 27 ستمبر کو ابوظہبی کا دورہ کیا اور اماراتی صدر محمد بن زاید سے ملاقات کی۔ خبر کے مطابق ملاقات کے فوراً بعد اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر یا اماراتی وزارت خارجہ کی طرف سے کوئی سرکاری تبصرہ دستیاب نہیں تھا۔
اس صورتحال کے باعث ملاقات کے بارے میں سامنے آنے والی بعض تفصیلات بنیادی طور پر اسرائیلی میڈیا اور ذرائع پر مبنی ہیں۔ اس لیے دورے کو ”خفیہ“ یا ”غیر اعلانیہ“ قرار دینے کی تعبیر بھی متعلقہ میڈیا رپورٹس کے تناظر میں سامنے آئی ہے، جبکہ دونوں حکومتوں کی جانب سے اس دورے کی مکمل تفصیلات باضابطہ طور پر جاری نہیں کی گئیں۔
ملاقات کا ایجنڈا تاحال واضح نہیں
ابوظہبی میں ہونے والی ملاقات کے ایجنڈے کے بارے میں فی الحال کوئی مکمل سرکاری تفصیل سامنے نہیں آئی۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق ملاقات زیادہ تر نجی نوعیت کی گفتگو پر مشتمل تھی، تاہم دونوں رہنماؤں نے کن معاملات پر تبادلہ خیال کیا، اس بارے میں باضابطہ معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
خطے کی موجودہ سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں یہ رابطہ خصوصی توجہ کا باعث بنا ہے، تاہم کسی مخصوص معاملے کو ملاقات کا ایجنڈا قرار دینے کے لیے سرکاری تصدیق درکار ہوگی۔
اکتوبر 2023 کے حملے سے پہلے مبینہ انتباہ کا معاملہ
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسرائیلی اخبار ہارٹز کی ستمبر 2026 کی ایک رپورٹ نے 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے سے قبل مبینہ اماراتی انتباہ کے معاملے کو دوبارہ زیر بحث لایا۔ رپورٹ کے مطابق شیخ محمد بن زاید نے حملے سے تقریباً ڈیڑھ ہفتہ قبل نتن یاہو کو حماس کی جانب سے بڑے آپریشن کی مبینہ تیاری سے آگاہ کیا تھا۔ تاہم نتن یاہو نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔
گارڈین کے مطابق نتن یاہو کے دفتر نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر کوئی متعلقہ معلومات موجود تھیں تو انہیں دونوں ممالک کے انٹیلیجنس چینلز کے ذریعے منتقل کیا جاتا۔ اس طرح انتباہ کے دعوے اور اسرائیلی وزیراعظم کے مؤقف میں واضح اختلاف موجود ہے۔
مئی میں بھی ملاقات کا دعویٰ اور اماراتی تردید
موجودہ دورے سے پہلے مئی 2026 میں بھی نتن یاہو کے دفتر نے متحدہ عرب امارات میں شیخ محمد بن زاید سے ملاقات کا دعویٰ کیا تھا۔ رائٹرز کے مطابق اس وقت اماراتی وزارت خارجہ نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے تعلقات سرکاری و اعلانیہ نوعیت کے ہیں اور غیر اعلانیہ دوروں یا غیر شفاف انتظامات سے متعلق دعوے بے بنیاد ہیں۔ نتن یاہو کے دفتر نے اس وقت کہا تھا کہ ملاقات 26 مارچ کو العین میں ہوئی اور کئی گھنٹے جاری رہی۔
موجودہ ستمبر کے دورے میں صورتحال مختلف ہے، کیونکہ اس بار ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے رائٹرز سے ملاقات کی تصدیق کی ہے، اگرچہ اماراتی حکومت کی طرف سے فوری طور پر اس پر تبصرہ نہیں کیا گیا۔
اسرائیل اور امارات کے سفارتی تعلقات
اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے 2020 میں ابراہم معاہدوں کے تحت سفارتی تعلقات معمول پر لانے کا فیصلہ کیا تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ تعلقات کے بعد سفارتی، اقتصادی اور دیگر شعبوں میں روابط قائم ہوئے۔ اسرائیلی وزارت خارجہ کے مطابق ابوظہبی میں اسرائیلی سفارتخانے کا قیام 2021 میں عمل میں آیا۔
نتن یاہو کا 27 ستمبر 2026 کا ابوظہبی دورہ اسی سفارتی پس منظر میں سامنے آیا ہے، تاہم موجودہ ملاقات کے مخصوص مقاصد، ایجنڈے اور ممکنہ نتائج سے متعلق مزید سرکاری تفصیلات کا انتظار ہے۔
حوالہ: رائٹرز، اسرائیلی میڈیا رپورٹس، گارڈین، متحدہ عرب امارات و اسرائیلی وزارت خارجہ کے دستیاب ریکارڈ