ایرانی جارحیت ناقابلِ قبول، جواب دینے کا حق محفوظ ہے: متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات کے بادشاہ کی نمایاں تصؤیر

یوتھ ویژن نیوز : ( گلف نیوز ڈایئکٹر معین خان غوری سے) متحدہ عرب امارات نے ایران کی طرف سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں پر شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی بھی اشتعال انگیزی کا بھرپور جواب دینے کا حق رکھتے ہیں۔

امارات کی وزارت خارجہ نے ان حملوں کو "خطرناک اشتعال انگیزی” قرار دیا اور واضح کیا کہ اپنی خودمختاری اور سلامتی کو متاثر کرنے والی کسی بھی کارروائی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

ایرانی حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں

بیان میں مزید کہا گیا کہ ایرانی حملے کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہیں اور یہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

متحدہ عرب امارات نے دعویٰ کیا کہ ایران کی طرف سے داغے گئے 15 میزائل اور ڈرونز کو فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا گیا، جبکہ ایک ڈرون سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا۔

فجیرہ میں آئل تنصیب پر حملہ

تاہم دو ڈرونز امارات کے صنعتی علاقے فجیرہ میں ایک آئل تنصیب پر گرے، جس سے زوردار دھماکا ہوا اور شدید آگ بھڑک اٹھی۔ اس واقعے میں بھارت سے تعلق رکھنے والے 3 غیرملکی زخمی ہوئے۔

اطلاعات کے مطابق فائر بریگیڈ کی ٹیموں نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پالیا۔ زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔

امارات کا مؤقف: جواب دینے کا حق محفوظ

امارات کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ "اپنی خودمختاری اور سلامتی کو متاثر کرنے والی کسی بھی کارروائی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔”

متحدہ عرب امارات نے عالمی برادری سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ ایران کی اس جارحیت کو روکنے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

ایران کا غیر واضح ردعمل

دوسری طرف، ایران نے متحدہ عرب امارات کے اس بیان پر ابھی تک کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا ہے۔ تاہم ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے نے ایک نامعلوم سینئر اہلکار کے حوالے سے کہا ہے کہ ایران کا متحدہ عرب امارات پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں تھا اور نہ ہے۔

بیان میں مزید تفصیلات یا اہلکار کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے اس بیان کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہیں۔

خطے میں کشیدگی میں اضافہ

ماہرین کے مطابق امارات پر یہ حملہ مشرق وسطیٰ میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ متحدہ عرب امارات امریکہ اور اسرائیل کا اہم اتحادی ہے اور ایران کے خلاف امریکی ناکہ بندی میں اس کا اہم کردار رہا ہے۔

ایران کی طرف سے امارات پر حملے کو خطے میں طاقت کے توازن میں تبدیلی کی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

عالمی ردعمل کا انتظار

امریکہ، برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک نے ابھی تک اس واقعے پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا ہے۔ تاہم سفارتی حلقوں میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ حملہ خطے میں ایک نئی جنگ کا آغاز بھی ہو سکتا ہے۔

ادھر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے، جس میں اس واقعے پر غور کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں