اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ، خطے کی صورتحال اور سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطے کی نمایاں تصویر

اسلام آباد (یوتھ ویژن نیوز) – نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے گزشتہ رات ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے ٹیلیفون پر تفصیلی گفتگو کی۔

اس ٹیلیفونک رابطے کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے کی مجموعی صورتحال اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کی جاری سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔

ایران نے پاکستان کی ثالثی کو سراہا

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے فریقین کے درمیان تعمیری کردار اور مخلصانہ ثالثی کی کوششوں پر پاکستان کو خراج تحسین پیش کیا۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ پاکستان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

اسحاق ڈار کا مؤقف: مکالمہ ہی واحد راستہ

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے خطے میں تعمیری روابط کے فروغ کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ "مسائل کے پرامن حل اور دیرپا امن و استحکام کے حصول کے لیے مکالمہ اور سفارتکاری ہی واحد قابل عمل راستہ ہیں۔”

اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے خطے میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے کوشاں رہا ہے اور آئندہ بھی اسی حکمت عملی پر گامزن رہے گا۔

سفارتی کوششیں جاری

ذرائع کے مطابق پاکستان اور ایران کے درمیان یہ ٹیلیفونک رابطہ اس وقت ہوا ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔

پاکستان نے دونوں فریقین کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے جنگ بندی کروانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ حالیہ دنوں میں ٹرمپ کی جانب سے ایران پر سخت موقف کے بعد ایک مرتبہ پھر سفارتی کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اسحاق ڈار اور عراقچی کے درمیان ہونے والی یہ گفتگو خطے میں موجودہ صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے ایک اہم پیشرفت ہے۔

مستقبل کی راہ

دونوں رہنماؤں نے مستقبل میں باہمی رابطوں کو جاری رکھنے اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے مل کر کام کرنے پر بھی اتفاق کیا۔

واضح رہے کہ پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کرتے ہوئے 8 اپریل کو جنگ بندی کروانے میں کامیابی حاصل کی تھی، جسے ٹرمپ نے لامحدود مدت کے لیے بڑھا دیا ہے۔ تاہم مستقل معاہدے کے لیے ابھی تک کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی۔

ایرانی وزیر خارجہ کی جانب سے پاکستان کی تعریف کو سفارتی حلقوں میں ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں