نئی مانیٹری پالیسی 2026: اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان
یوتھ ویژن نیوز 🙁 کراچی)-اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے شرح سود (Policy Rate) 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ فیصلہ گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کی زیر صدارت منعقد ہونے والے مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) کے اجلاس میں کیا گیا، جس میں ملکی معیشت، مہنگائی، مالیاتی اشاریوں اور عالمی اقتصادی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس، شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ
گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پالیسی ریٹ 11.50 فیصد پر برقرار رکھا جائے گا۔ اس فیصلے کا اطلاق آئندہ ڈیڑھ ماہ کے لیے ہوگا۔
اسٹیٹ بینک نے 27 اپریل 2026 سے شرح سود کو 11.50 فیصد پر برقرار رکھا ہوا ہے، جبکہ موجودہ اجلاس میں بھی معاشی حالات کا جائزہ لینے کے بعد اسی شرح کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔
مہنگائی، معاشی اشاریوں اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال کا جائزہ
مانیٹری پالیسی کمیٹی نے اجلاس کے دوران ملک میں مہنگائی (Inflation)، معاشی استحکام، مالیاتی اشاریوں، زرمبادلہ کی صورتحال اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے پاکستان کی معیشت پر ممکنہ اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق موجودہ معاشی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے شرح سود میں فوری تبدیلی کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی، جس کے باعث پالیسی ریٹ کو برقرار رکھا گیا۔
شرح سود برقرار رکھنے کا مقصد
اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ شرح سود کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کا مقصد:
- مہنگائی کو قابو میں رکھنا
- مالیاتی استحکام برقرار رکھنا
- سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط بنانا
- معاشی بحالی کے عمل کو جاری رکھنا
- بیرونی معاشی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو بہتر بنانا
کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں کے لیے اہم فیصلہ
ماہرین کے مطابق شرح سود برقرار رہنے سے بینکاری، سرمایہ کاری، صنعت، کاروباری سرگرمیوں اور مالیاتی منصوبہ بندی میں تسلسل برقرار رہے گا، جبکہ آئندہ مانیٹری پالیسی تک کاروباری طبقہ موجودہ مالیاتی ماحول کے مطابق اپنی حکمت عملی ترتیب دے سکے گا۔