اسپیکر قومی اسمبلی کی قیادت میں پارلیمانی وفد کا3 روزہ دورۂ چین

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی قیادت میں پاکستانی پارلیمانی وفد کے دورۂ چین کی نمائشی تصویر، جس میں پاک چین پارلیمانی روابط کو اجاگر کیا گیا ہے۔

یوتھ ویژن نیوز : ( خصؤصی رپورٹ برائے سید نعمان شاہ سے)اسپیکر قومی اسمبلی کی قیادت میں اعلیٰ سطح پارلیمانی وفد کا تین روزہ دورۂ چین، پاک چین پارلیمانی تعاون اور دوطرفہ تعلقات پر اہم ملاقاتیں متوقع۔

اسلام آباد: اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطح پارلیمانی وفد 19 سے 21 جنوری تک عوامی جمہوریہ چین کا تین روزہ سرکاری دورہ کرے گا، جس کا مقصد پاکستان اور چین کے مابین پارلیمانی تعاون کو فروغ دینا، دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانا اور باہمی دلچسپی کے اہم امور پر اعلیٰ سطح مشاورت کو آگے بڑھانا ہے۔

قومی اسمبلی کے ترجمان کے مطابق یہ دورہ چیئرمین اسٹینڈنگ کمیٹی آف نیشنل پیپلز کانگریس ژاؤ لی جی کی خصوصی دعوت پر کیا جا رہا ہے، جبکہ سال 2026 میں اسپیکر قومی اسمبلی کا یہ چین کا پہلا باضابطہ دورہ ہوگا۔ اس موقع پر پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر رواں برس مشترکہ تقریبات کے انعقاد کا بھی اعلان کیا گیا ہے، جنہیں دونوں ممالک شایانِ شان انداز میں منانے پر اتفاق رکھتے ہیں۔

دورے کے دوران پاکستانی پارلیمانی وفد کی چینی پارلیمانی قیادت اور اعلیٰ سیاسی حکام سے اہم ملاقاتیں متوقع ہیں، جن میں پارلیمانی روابط، قانون سازی کے تجربات کے تبادلے، اقتصادی تعاون، علاقائی و عالمی صورتحال اور پاک چین اسٹریٹجک شراکت داری کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی جائے گی۔ ترجمان کے مطابق یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات، باہمی اعتماد اور ادارہ جاتی روابط کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگا، جبکہ پارلیمانی سفارت کاری کے فروغ کے ذریعے عوامی سطح پر تعلقات کو بھی نئی جہت ملے گی۔

پارلیمانی وفد میں اراکین قومی اسمبلی رومینہ خورشید عالم (کنوینر پاک چین فرینڈ شپ گروپ)، محمد نعمان، زیب جعفر اور مولانا عبدالغفور حیدری شامل ہیں، جو مختلف پارلیمانی و سیاسی فورمز پر پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ قومی اسمبلی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی کا یہ دورہ نہ صرف دوطرفہ پارلیمانی تعاون کے فروغ میں اہم سنگ میل ہوگا بلکہ پاک چین تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے میں بھی مؤثر کردار ادا کرے گا، کیونکہ دونوں ممالک خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے مشترکہ وژن پر یقین رکھتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں