پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا خدشہ، سینیٹ کمیٹی میں اہم بریفنگ

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خدشے کے پس منظر میں پیٹرول پمپ اور ایندھن کی نمائندہ تصویر۔

یوتھ ویژن نیوز : (علی رضا سے) اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمینسلیم مانڈوی والا  کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور توانائی کے شعبے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

اجلاس کے دوران وفاقی وزیر خزانمحمد اورنگزیب نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ وزیراعظم پاکستان شہبازشریف نے پیٹرولیم مصنوعات کی خریداری اور قیمتوں کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی کمیٹی قائم کر دی ہے تاکہ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے اثرات کا بہتر انداز میں جائزہ لیا جا سکے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی خریداری کے فیصلے اکثر فوری طور پر کرنے پڑتے ہیں کیونکہ عالمی منڈی میں خام تیل اور توانائی کی قیمتیں تیزی سے تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ علاقائی کشیدگی اور حملوں کے باعث قطر انرجی سے مائع قدرتی گیس یعنی ایل این جی کی درآمد متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

پیٹرول مزید مہنگا ہونے کی خبر غلط، وزارت خزانہ کی وضاحت سامنے آگئی

محمد اورنگزیب کے مطابق ایل این جی کا وہ کارگو جو پہلے تقریباً پچیس ملین ڈالر میں دستیاب ہوتا تھا اب اس کی قیمت بڑھ کر تقریباً ایک سو ملین ڈالر تک پہنچ چکی ہے جس سے توانائی کے شعبے کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور یہی صورتحال آئندہ دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اجلاس میں پیٹرولیم ڈویژن کے حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت پانچ ریفائنری پلانٹس کام کر رہے ہیں تاہم ان میں سے بیشتر پرانے ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے جدید معیار کے مطابق پیداوار اور استعداد کار کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

حکام کے مطابق پاکستان کو سعودی عرب کی جانب سے کروڈ آئل فراہم کیا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں کچھ قیمتوں میں رعایت بھی دی گئی ہے جس سے وقتی طور پر توانائی کے شعبے کو سہارا ملا ہے۔ اجلاس کے دوران سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ آخر یہ اضافہ کس کے فائدے کے لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ ملک کا غریب طبقہ پچپن روپے تک کے اضافے کا بوجھ برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں