پیوٹن اور عباس عراقچی کی اہم ملاقات، روس کا ایران کے مفادات کے تحفظ کا عزم، خطے میں کشیدگی پر گفتگو۔

پیوٹن اور عباس عراقچی کی اہم ملاقات کی نمایاں تصوئیر

یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کے دوران یقین دہانی کرائی ہے کہ روس ایران اور خطے کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرے گا۔ یہ اہم ملاقات سینٹ پیٹرز برگ میں ہوئی جہاں دونوں رہنماؤں نے علاقائی صورتحال اور دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

سینٹ پیٹرز برگ میں اہم سفارتی ملاقات

پیوٹن اور عباس عراقچی کی اہم ملاقات کی نمایاں تصوئیر

روسی خبررساں ایجنسی کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے دورہ روس کے دوران صدر پیوٹن سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور مختلف ممالک سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں۔

ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی صورتحال، ایران امریکا کشیدگی اور عالمی سطح پر بدلتے حالات پر گفتگو کی۔

ایران کے سپریم لیڈر کا پیغام

صدر ولادیمیر پیوٹن نے اس موقع پر کہا کہ انہیں ایران کے سپریم لیڈر کا پیغام موصول ہوا ہے۔ انہوں نے ایرانی قیادت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے عباس عراقچی سے کہا کہ وہ ان کا پیغام سپریم لیڈر تک پہنچائیں۔

انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ ایرانی عوام موجودہ مشکلات سے نکل آئیں گے اور خطے میں امن و استحکام قائم ہوگا۔

روس کا ایران کے مفادات کے تحفظ کا اعلان

پیوٹن اور عباس عراقچی کی اہم ملاقات کی نمایاں تصوئیر

صدر پیوٹن نے واضح کیا کہ روس ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو اہمیت دیتا ہے اور خطے میں ایران کے مفادات کے تحفظ کے لیے جو ممکن ہوا کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ روس خطے میں امن کے قیام اور کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا اور اس سلسلے میں سفارتی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

روس اور ایران کے اسٹریٹجک تعلقات

روسی صدر نے کہا کہ روس اور ایران کے درمیان تعلقات اسٹریٹجک نوعیت کے ہیں اور مستقبل میں بھی یہ تعاون جاری رہے گا۔

انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، سیاسی اور دفاعی شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔

عباس عراقچی کا روسی حمایت پر شکریہ

عباس عراقچی کی اہم ملاقات کی نمایاں تصوئیر

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس موقع پر روس اور صدر پیوٹن کا ایران کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور روس کے تعلقات اسٹریٹجک شراکت داری پر مبنی ہیں اور وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔

خطے میں کشیدگی اور سفارتی کوششیں

ماہرین کے مطابق یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مختلف سطح پر سفارتی کوششیں جاری ہیں۔

عباس عراقچی کا دورہ روس اسی تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، جہاں مختلف عالمی طاقتیں خطے میں استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

مستقبل میں تعلقات کا رخ

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روس اور ایران کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون خطے کی سیاست پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

اس ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے، جبکہ آنے والے دنوں میں مزید سفارتی پیش رفت بھی متوقع ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں