ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے
یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) اسلام آباد: ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات کے تناظر میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ایک بار پھر اسلام آباد پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ پاکستانی قیادت کے ساتھ اہم ملاقاتیں کریں گے۔ ان کے اس دورے کو خطے میں سفارتی سرگرمیوں کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ایران امریکا مذاکرات میں پاکستان کا کردار
ذرائع کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات میں پاکستان ایک اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ کے دوبارہ دورہ اسلام آباد کو اسی سلسلے کی کڑی قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور سفارتی حل تلاش کرنا ہے۔
پاکستانی قیادت مسلسل اس بات پر زور دیتی رہی ہے کہ مسائل کا حل مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے نکالا جائے، اور اسی حکمت عملی کے تحت ایران کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھا گیا ہے۔
عباس عراقچی کی اسلام آباد آمد اور وفد کی شرکت
ایکسپریس نیوز کے مطابق عباس عراقچی مسقط سے اسلام آباد پہنچے ہیں جبکہ تہران سے ایک اعلیٰ سطحی ایرانی وفد بھی مذاکرات کے لیے پاکستان پہنچ چکا ہے۔ یہ وفد مختلف اہم امور پر پاکستانی حکام سے بات چیت کرے گا۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ملاقاتیں خطے میں امن و استحکام کے لیے نہایت اہم ہیں اور ان کے مثبت نتائج سامنے آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
پاکستانی قیادت سے اہم ملاقاتوں کا امکان
ذرائع کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ اپنے دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور امریکا ایران مذاکرات پر تفصیلی بات چیت متوقع ہے۔
ان ملاقاتوں کو دونوں ممالک کے درمیان سفارتی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
مسقط سے اسلام آباد واپسی کی وجہ
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مسقط سے ماسکو جانے کے بجائے دوبارہ اسلام آباد کا رخ کیا، جس نے اس دورے کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ مشاورت کو ترجیح دیتے ہوئے انہوں نے اپنے سفر کے شیڈول میں تبدیلی کی، تاکہ اہم معاملات پر براہ راست بات چیت کی جا سکے۔
گزشتہ ملاقاتوں کا پس منظر
واضح رہے کہ اس سے قبل عباس عراقچی نے اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے الگ الگ ملاقاتیں کی تھیں۔ ان ملاقاتوں میں خطے کی صورتحال اور باہمی تعاون کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
ان ملاقاتوں کے بعد وہ مسقط روانہ ہو گئے تھے جہاں سے انہیں ماسکو جانا تھا، تاہم تازہ پیش رفت کے تحت وہ دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔
خطے میں امن کے لیے سفارتی کوششیں
ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں میں پاکستان کا کردار اہم ہو سکتا ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے میں امن کے لیے مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتی ہیں۔
پاکستان کی پالیسی ہمیشہ سے یہی رہی ہے کہ خطے میں تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے، اور یہی مؤقف ان حالیہ سفارتی سرگرمیوں میں بھی نظر آ رہا ہے۔