وزیراعظم کی صدر مملکت سے آج ملاقات کا امکان، خیبرپختونخوا کی صورتحال پر اہم مشاورت متوقع

وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری کی ملاقات

یوتھ ویژن نیوز : (ثاقب ابراہیم سے)- خیبرپختونخوا میں جاری سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں وزیراعظم شہباز شریف کی صدر مملکت آصف علی زرداری سے آج ایوان صدر میں ملاقات کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اعلیٰ سطح اجلاس میں صوبے میں دہشتگردی، امن و امان اور موجودہ سیاسی حالات پر تبادلہ خیال متوقع ہے، جبکہ وزیراعظم صدر مملکت کو خیبرپختونخوا کی صورتحال سے آگاہ کریں گے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خیبرپختونخوا میں سیاسی کشیدگی کے ساتھ دہشتگردی کے واقعات بھی حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے لیے اہم چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ 5 اکتوبر 2026 کو ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 3 دہشتگردوں کی ہلاکت کی سرکاری اطلاع بھی سامنے آئی، جس کے بعد صدر اور وزیراعظم نے سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔

ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں خیبرپختونخوا سمیت ملک کی مجموعی سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی۔ ملاقات میں صوبے کی بدامنی، امن و امان اور موجودہ حالات سے متعلق امور پر مشاورت کی گئی۔

تازہ صورتحال میں وفاقی حکومت اور خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کے درمیان سیاسی اختلافات بھی نمایاں ہیں۔ حالیہ دنوں میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوسکی، جس کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ شروع کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

ایوان صدر میں اعلیٰ سطح اجلاس کا امکان

ذرائع کے مطابق ایوان صدر میں آج رات اعلیٰ سطح اجلاس متوقع ہے جس میں وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری کی ملاقات بھی ہوسکتی ہے۔ ملاقات کی صورت میں خیبرپختونخوا کی سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال خصوصی طور پر زیر بحث آنے کا امکان ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ صدر اور وزیراعظم اس سے قبل یکم اکتوبر 2026 کو بھی ایوان صدر میں ملاقات کرچکے ہیں، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ اس اجلاس میں خیبرپختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار بھی کیا گیا تھا۔

خیبرپختونخوا کی بدامنی اہم موضوع

وفاقی سطح پر خیبرپختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال اس وقت اہم ترین موضوعات میں شامل ہے۔ حالیہ دنوں میں صوبے کے مختلف علاقوں میں دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں ہوئی ہیں، جبکہ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز بھی جاری رکھنے کا مؤقف سامنے آیا ہے۔

5 اکتوبر کو ڈیرہ اسماعیل خان میں 3 دہشتگردوں کی ہلاکت کے حوالے سے ریاستی میڈیا نے بتایا کہ کارروائی عزم استحکام کے تحت کی گئی۔ صدر زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کو سراہتے ہوئے دہشتگردی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا۔

سیاسی صورتحال بھی مشاورت کا حصہ

خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ سیاسی صورتحال بھی وفاق اور صوبے کے درمیان تعلقات پر اثر انداز ہورہی ہے۔ رواں ماہ کے آغاز میں وزیراعظم اور صدر کے اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے لیے مشترکہ وفد تشکیل دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا تھا۔ تاہم بعد میں مذاکرات میں تعطل پیدا ہوا اور 5 اکتوبر کو پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد مارچ شروع کیے جانے کی خبریں سامنے آئیں۔

وفاقی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا میں امن و امان، دہشتگردی اور سیاسی کشیدگی کے معاملات پر بارہا تشویش کا اظہار کیا جاچکا ہے۔ دوسری جانب صوبائی حکومت اور پی ٹی آئی اپنی سیاسی پوزیشن اور احتجاج کو الگ مؤقف کے ساتھ پیش کر رہی ہے۔

اہم فیصلوں کا امکان

ذرائع کے مطابق وزیراعظم اور صدر کی متوقع ملاقات میں خیبرپختونخوا کی صورتحال پر مشاورت کے ساتھ آئندہ کے لائحہ عمل پر بھی غور ہوسکتا ہے۔ تاہم ملاقات اور کسی ممکنہ فیصلے کی حتمی تفصیلات سرکاری اجلاس یا اعلامیے کے بعد ہی واضح ہوں گی۔

صدر اور وزیراعظم کا یہ ممکنہ رابطہ ایک ایسے وقت میں ہورہا ہے جب صوبے میں دہشتگردی، سیاسی کشیدگی اور وفاق و صوبہ تعلقات بیک وقت اہم موضوعات بن چکے ہیں۔ وفاقی حکومت سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مؤثر تعاون پر زور دے رہی ہے، جبکہ سیاسی سطح پر بھی حالات معمول پر لانے کے لیے مختلف آپشنز زیر غور ہیں۔

فی الحال وزیراعظم کی صدر مملکت سے آج ملاقات ذرائع کی اطلاع کے مطابق متوقع ہے، جبکہ اس کا حتمی ایجنڈا اور ممکنہ فیصلے اجلاس کے بعد سامنے آنے کی توقع ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں