علاقائی کشیدگی اور ملکی سلامتی: وزیراعظم کی زیرِ صدارت اہم مشاورت، دورہ روس ملتوی
یوتھ ویژن نیوز : (محمد عباس سے) مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور ملکی سلامتی پر وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس۔ دورہ روس ملتوی، ایرانی سرحد سے پاکستانیوں کے انخلا کا پلان تیار۔
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں جاری حالیہ عسکری کشیدگی اور علاقائی عدم استحکام کے پیشِ نظر وزیراعظم شہباز شریف نے اپنا اہم دورہ روس ملتوی کر دیا ہے۔ وزیراعظم کی زیرِ صدارت منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ملک کی داخلی سلامتی اور خطے کی موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں عسکری و سول قیادت نے شرکت کی، جس میں خاص طور پر ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع کے پاکستان پر اثرات اور افغانستان کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان اپنا سفارتی کردار بھرپور طریقے سے ادا کرتا رہے گا۔
ایرانی سرحد سے پاکستانیوں کا ہنگامی انخلا
اجلاس کے دوران ایران میں پھنسے ہوئے پاکستانی شہریوں کی بحفاظت واپسی کا معاملہ سرفہرست رہا۔ دفتر خارجہ نے وزیراعظم کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ تہران اور دیگر شہروں میں موجود پاکستانیوں کو آذربائیجان کے راستے نکالنے کا منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے۔ فضائی آپریشن متاثر ہونے کے باعث زمینی راستوں کو ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ شہریوں کی زندگیوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔ اس سلسلے میں متعلقہ سفارت خانوں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور انخلا کے عمل کی نگرانی براہِ راست وزیراعظم ہاؤس سے کی جا رہی ہے۔
یورپی ممالک کے ساتھ ویزا سہولیات اور ورک پرمٹ
اجلاس کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی نے وزیراعظم کو اپنے حالیہ دورہ یورپ کے نتائج سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اٹلی، اسپین اور یونان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں پاکستانیوں کے لیے قانونی ورک پرمٹ کے جلد اجرا پر اتفاق کیا گیا ہے۔ ایک سال کے دوران غیر قانونی انسانی اسمگلنگ میں 47 فیصد کمی لانے پر یورپی ممالک نے پاکستان کی کارکردگی کو سراہا ہے۔ خوشخبری یہ ہے کہ پولینڈ اور اٹلی جلد ہی پاکستانی سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا کی شرط ختم کر دیں گے، جس سے سفارتی تعلقات میں مزید بہتری آئے گی۔
سیکیورٹی انتظامات اور مستقبل کی حکمتِ عملی
اجلاس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت وفاقی وزراء احسن اقبال، اعظم نذیر تارڑ اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ وزیراعظم نے ملک بھر میں سیکیورٹی انتظامات کو مزید سخت کرنے کی ہدایت کی اور واضح کیا کہ کسی بھی بیرونی جارحیت یا اندرونی خلفشار سے نمٹنے کے لیے تمام ادارے ہم آہنگ ہیں۔ اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کی حفاظت اور خطے میں استحکام کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گا۔ امیگریشن اور بارڈر سیکیورٹی کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے جلد ہی یورپی یونین کے سامنے ایک جامع پلان بھی پیش کیا جائے گا۔