رمضان کا چاند اور 20 لاکھ کے اخراجات؛ کے پی کابینہ کا اہم اجلاس طلب
یوتھ ویژن نیوز : خیبر پختونخوا حکومت مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چاند دیکھنے پر اٹھنے والے 20 لاکھ روپے کے اخراجات ادا کرے گی۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس۔
پشاور (23 فروری 2026): خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کے لیے ہونے والے اجلاس کے اخراجات کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق، مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کے حالیہ اجلاس پر مجموعی طور پر 20 لاکھ روپے خرچ ہوئے ہیں، جن کی ادائیگی کی ذمہ داری خیبر پختونخوا حکومت نے اٹھائی ہے۔ یہ رقم اجلاس کے انتظامات، ممبران کی رہائش اور دیگر تکنیکی سہولیات کی فراہمی پر خرچ کی گئی ہے۔
کابینہ اجلاس کا 18 نکاتی ایجنڈا
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی صدارت میں صوبائی کابینہ کا 48 واں اجلاس 25 فروری کو طلب کر لیا گیا ہے۔ اس اہم بیٹھک کے لیے محکمہ انتظامی امور نے 18 نکاتی ایجنڈا تیار کیا ہے، جس میں رویت ہلال کمیٹی کے ان 20 لاکھ روپے کے اخراجات کی باقاعدہ منظوری لی جائے گی۔ عوامی حلقوں میں ان اخراجات کو لے کر مختلف بحثیں جاری ہیں، تاہم حکومت کا موقف ہے کہ یہ ایک قومی فریضے کی انجام دہی کے لیے ضروری انتظامات کا حصہ ہے۔
رمضان سپورٹ پروگرام اور عوامی ریلیف
صرف چاند دیکھنے کے اخراجات ہی نہیں، بلکہ کابینہ کے ایجنڈے میں غریب طبقے کے لیے رمضان سپورٹ پروگرام کی منظوری بھی شامل ہے۔ اس پروگرام کے تحت صوبے کے مستحق خاندانوں کو اشیائے ضروریہ پر سبسڈی فراہم کی جائے گی تاکہ مہنگائی کے اس دور میں انہیں ریلیف مل سکے۔ اس کے علاوہ گندم ذخیرہ کرنے کی پالیسی پر بھی غور ہوگا تاکہ آنے والے مہینوں میں صوبے میں آٹے کا بحران پیدا نہ ہو۔
ترقیاتی منصوبے اور قانون سازی
کابینہ اجلاس میں کئی دیگر اہم فیصلے بھی متوقع ہیں:
- ڈی آئی خان موٹروے: پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت اس اہم منصوبے کی حتمی منظوری دی جائے گی۔
- خواتین کا تحفظ: خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف موجودہ قانون میں ترامیم پر غور ہوگا تاکہ اسے مزید سخت اور مؤثر بنایا جا سکے۔
- اقلیتوں کے لیے فنڈز: اقلیتی طالب علموں کے لیے خصوصی فنڈز کی منظوری بھی ایجنڈے کا حصہ ہے تاکہ تعلیمی میدان میں ان کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔
انتظامی اصلاحات اور چیلنجز
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی زیرِ قیادت یہ اجلاس صوبے کی انتظامی اور معاشی سمت متعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ جہاں ایک طرف رویت ہلال جیسے روایتی اخراجات کی منظوری دی جا رہی ہے، وہیں ڈی آئی خان موٹروے جیسے بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبے صوبے کی ترقی کے لیے ناگزیر سمجھے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو اخراجات میں کفایت شعاری کے ساتھ ساتھ عوامی فلاح کے منصوبوں کو ترجیح دینی ہوگی۔