اسرائیل اور امریکہ کا ایران پر مشترک حملہ: سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای شہید

ایران کی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کی تصدیق

یوتھ ویژن نیوز : (محمد عباس سے) مشرق وسطیٰ میں بڑی جنگ کا آغاز: اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای شہید۔ ایران کا جوابی حملہ، دبئی ایئرپورٹ اور تل ابیب نشانے پر آگئے۔

تہران/واشنگٹن: مشرق وسطیٰ اس وقت تاریخ کے بدترین بحران اور ایک ہمہ گیر جنگ کی لپیٹ میں آ چکا ہے جب ایران کی حکومت نے باضابطہ طور پر سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کی تصدیق کر دی۔ سرکاری میڈیا کے مطابق، اسرائیل اور امریکہ نے رات گئے ایک مشترکہ فضائی کارروائی کی جس میں تہران میں سپریم لیڈر کے دفتر کو درجنوں میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔

اس حملے میں نہ صرف سپریم لیڈر بلکہ ان کے خاندان کے قریبی افراد اور پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ کمانڈر علی شمخانی اور محمد پاکپور بھی شہید ہو گئے ہیں۔ اس لرزہ خیز واقعے کے بعد ایران میں 7 روزہ تعطیل اور 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ مشہد میں امام رضا علیہ السلام کے مزار پر سیاہ پرچم لہرا کر انتقام کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

امریکہ کا آپریشن ‘ایپک فیوری’ اور اسرائیلی دعوے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے جاری ہنگامی بیان میں اس آپریشن کو ‘ایپک فیوری’ (Epic Fury) کا نام دیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی اور اسرائیلی فضائیہ نے مشترکہ طور پر ایرانی میزائل پروگرام اور بحریہ کو مفلوج کرنے کا آغاز کر دیا ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملہ مہینوں کی منصوبہ بندی کا نتیجہ تھا اور انہوں نے ثبوت کے طور پر سپریم لیڈر کی میت کی تصاویر بھی امریکی حکام کو فراہم کی ہیں۔

حملے کی پہلی لہر میں تہران، اصفہان اور بوشہر کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اسرائیلی وزیر دفاع نے اسے ایران کی جانب سے لاحق خطرات کے خلاف ایک ‘پیشگی حملہ’ قرار دیا ہے۔

ایران کا جوابی وار: دبئی اور اسرائیل میں دھماکے

اسرائیلی اور امریکی جارحیت کے جواب میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے "تباہ کن کارروائی” کا آغاز کر دیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، ایران نے دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ٹرمینل تھری کو نشانہ بنایا ہے جس کے بعد وہاں دھویں کے بادل چھا گئے اور مسافروں کی ہنگامی منتقلی شروع کر دی گئی۔ دوسری جانب، تل ابیب میں اسرائیلی وزارتِ دفاع کی عمارت پر بھی میزائل گرا ہے جس کے نتیجے میں متعدد ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاع ہے۔ ایران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں بشمول بحرین، قطر اور کویت کو بھی نشانہ بنانے کی تصدیق کی ہے، جس پر سعودی عرب اور دیگر عرب ریاستوں نے سخت احتجاج اور مذمت کی ہے۔

کمانڈ میں تبدیلی اور عالمی ردعمل

سپریم لیڈر کی شہادت کے فوراً بعد بریگیڈیئر جنرل احمد وحیدی کو سپاہ پاسدارانِ انقلاب کا نیا کمانڈر اِن چیف مقرر کر دیا گیا ہے، جنہوں نے دشمن کے خلاف تاریخ کے سب سے جارحانہ آپریشن کا حکم دے دیا ہے۔ عالمی سطح پر اس صورتحال نے شدید تشویش پیدا کر دی ہے؛ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں روس اور چین نے امریکہ اور اسرائیل کی اس کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے متنبہ کیا ہے کہ یہ صورتحال پوری دنیا کو تباہی کی طرف لے جا سکتی ہے۔

علاقائی خودمختاری کی خلاف ورزی اور مستقبل کا منظرنامہ

سعودی وزارتِ خارجہ نے ایران کی جانب سے خلیجی ریاستوں پر حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ دوسری جانب، ایران کا موقف ہے کہ جب تک امریکی مداخلت اور اسرائیلی جارحیت بند نہیں ہوتی، وہ اپنی دفاعی کارروائیاں جاری رکھے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے چار روز انتہائی اہم ہیں، کیونکہ اسرائیل نے حملوں کی دوسری لہر کی دھمکی دے رکھی ہے، جس کا مقصد تہران میں مکمل طور پر حکومت کی تبدیلی (Regime Change) ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں