عمران خان کی صحت پر ڈیڈ لاک: اپوزیشن کا پارلیمنٹ میں دھرنا، اسپتال منتقلی تک احتجاج کا اعلان
یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک)اپوزیشن کا عمران خان کو اسپتال شفٹ کرنے تک پارلیمنٹ میں دھرنا جاری رکھنے کا اعلان۔ محمود خان اچکزئی اور پی ٹی آئی قیادت کا ون پوائنٹ ایجنڈا۔
پاکستان کی سیاست میں اس وقت شدید تناؤ دیکھا جا رہا ہے جہاں تحریک تحفظِ آئین پاکستان کے زیرِ اہتمام اپوزیشن اتحاد نے پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر ڈیرے ڈال دیے ہیں۔ اپوزیشن قیادت نے واضح کیا ہے کہ جب تک بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اسپتال شفٹ نہیں کیا جاتا، یہ دھرنا ختم نہیں ہوگا۔ اس احتجاج میں محمود خان اچکزئی سمیت پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت شریک ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ کی بجلی بند کیے جانے کے باوجود ارکانِ قومی اسمبلی اور سینیٹ اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اور انہوں نے رات بھی پارلیمنٹ کی راہداریوں میں گزارنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔
انتظامیہ کی جانب سے پارلیمنٹ ہاؤس کے داخلی اور خارجی راستوں کو مکمل طور پر تالے لگا کر بند کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے باہر رہ جانے والے اراکینِ پارلیمنٹ بھی اب اندر داخل نہیں ہو پا رہے۔ سیکیورٹی کے سخت انتظامات کے تحت پولیس کی بھاری نفری بشمول لیڈی پولیس اہلکار گیٹ پر تعینات ہیں، تاہم اندر موجود مظاہرین کی جانب سے مسلسل نعرے بازی کا سلسلہ جاری ہے۔ اپوزیشن کا بنیادی مطالبہ سابق وزیراعظم کا طبی معائنہ کرانا اور انہیں فیملی و رفقا سے ملاقات کی اجازت دینا ہے، جس میں رکاوٹ ڈالنے پر سیاسی درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
سپریم کورٹ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے 6 مقدمات سماعت کے لیے مقرر
ذرائع کے مطابق، حکومتی نمائندوں نے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سے رابطہ کیا ہے تاکہ احتجاج ختم کرایا جا سکے، لیکن اپوزیشن نے اپنا "ون پوائنٹ ایجنڈا” سامنے رکھ دیا ہے۔ محمود خان اچکزئی کا موقف ہے کہ عمران خان کو اسپتال شفٹ کرنا اور صرف الشفاء انٹرنیشنل اسپتال اسلام آباد میں ان کے تین نامزد معالجین کی موجودگی میں طبی معائنہ کرانا ہی واحد حل ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور جب تک یہ مطالبہ تسلیم نہیں ہوتا، پارلیمنٹ ہاؤس احتجاج کا مرکز بنا رہے گا۔
دوسری جانب، حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ عمران خان کو آنکھ کا مسئلہ ہے اور حکومت ان کا معائنہ کسی بھی معیاری جگہ سے کرانے کے لیے تیار ہے، تاہم وہ وزیراعظم سے مشاورت کے بعد ہی حتمی جواب دیں گے۔ اس دوران خیبر پختونخوا ہاؤس کے باہر بھی صوبائی اراکینِ اسمبلی کا پرامن دھرنا جاری ہے، جس نے وفاقی دارالحکومت میں سیاسی گہما گہمی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ "یوتھ ویژن” کے قارئین کے لیے یہ صورتحال انتہائی اہم ہے کیونکہ اس احتجاج کے اثرات براہِ راست ملکی استحکام اور آئندہ کی پارلیمانی کارروائی پر پڑ سکتے ہیں۔
سیمنٹک ایس ای او کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس احتجاج کا مرکز صرف ایک مطالبہ ہے کہ عمران خان کو اسپتال شفٹ کیا جائے۔ اپوزیشن کا یہ سخت موقف اور حکومت کی سرد مہری مستقبل قریب میں ایک بڑے سیاسی تعطل کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ عوامی حلقوں اور سوشل میڈیا پر بھی اس احتجاج کو بھرپور کوریج مل رہی ہے، جہاں شائقینِ سیاست اس ون پوائنٹ ایجنڈے کے نتائج کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا حکومت اپوزیشن کے مطالبات کے سامنے سر تسلیم خم کرتی ہے یا یہ احتجاج کسی نئی سیاسی تحریک کی شکل اختیار کر لے گا۔