انتونیو گوتریس کی پاکستان کے امریکا ایران مذاکرات میں کردار کی تعریف

انتونیو گوتریس اور اسحاق ڈار اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے

یوتھ ویژن نیوز : (علی رضا سے)– اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے اسے اہم اور قابل تحسین قرار دیا ہے۔ اسلام آباد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گوتریس نے کہا کہ پاکستان نے مشکل عالمی ماحول میں مذاکرات، سفارت کاری اور ثالثی کے ذریعے اعتماد پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے پاکستان کی قیادت کو امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت کے لیے حالات سازگار بنانے پر خراج تحسین بھی پیش کیا۔

انتونیو گوتریس 6 اکتوبر 2026 کو تین روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچے۔ دورے کے دوران انہوں نے پاکستانی قیادت اور اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کرنا تھیں، جبکہ علاقائی و عالمی امن، افغانستان، انسداد دہشتگردی، فلسطین، کشمیر اور پاکستان کی کثیرالجہتی سفارت کاری نمایاں موضوعات میں شامل رہے۔

امریکا ایران مذاکرات میں پاکستان کا کردار

گوتریس نے کہا کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت کے لیے حالات پیدا کرنے، تنازع میں ثالثی اور سفارتی عمل کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق پاکستان کی کوششوں سے اسلام آباد مفاہمتی عمل، بعد ازاں جنگ بندی اور آئندہ مذاکرات کے فریم ورک کی تشکیل میں مدد ملی۔

https://x.com/ForeignOfficePk/status/2107387093215584406?s=20

اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ دونوں فریقوں کا پاکستان پر اعتماد خود اسلام آباد کی سفارتی ساکھ کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی قیادت اور اس کی سفارتی کوششوں کو قابل تحسین قرار دیا اور کہا کہ موجودہ منقسم عالمی ماحول میں مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

فلسطین میں پائیدار امن کے لیے خود ارادیت ضروری

مشترکہ پریس کانفرنس میں گوتریس نے فلسطین کے مسئلے پر بھی واضح مؤقف پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں مستقل امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کو تسلیم نہ کیا جائے۔

انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ تنازع ختم کیا جائے، سفارت کاری کی طرف واپس آیا جائے اور بین الاقوامی قانون کے مطابق بحری آمدورفت کے حقوق بحال کیے جائیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے فلسطینی عوام کے سیاسی حقوق کے معاملے کو خطے میں پائیدار امن کے بنیادی عناصر میں شمار کیا۔

لاکھوں افغانوں کی میزبانی پر پاکستان کی تعریف

انتونیو گوتریس نے افغانستان کے حوالے سے پاکستان کی دہائیوں پر محیط میزبانی کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے تنازعات اور عدم استحکام سے فرار ہونے والے لاکھوں افغانوں کے لیے کئی دہائیوں تک اپنے دروازے کھلے رکھے اور مشکل حالات میں انسانی ہمدردی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔

https://x.com/ForeignOfficePk/status/2107387093215584406?s=20

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ افغان شہریوں کی رضاکارانہ، محفوظ اور باوقار واپسی کے اصول کی حمایت کرتا ہے۔ گوتریس کے مطابق افغان پناہ گزینوں کے معاملے میں انسانی تحفظ اور باوقار واپسی کے اصولوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

دہشتگردی کے خلاف پاکستانی عوام کے حوصلے کو خراج تحسین

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے پاکستان میں دہشتگردی سے ہونے والے جانی نقصان پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے باعث بہت زیادہ مشکلات برداشت کی ہیں اور ہزاروں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

گوتریس نے پاکستانی عوام کی استقامت کو سراہتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ پاکستان کے ساتھ دہشتگردی کے خطرے سے نمٹنے میں کھڑا ہے۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ دہشتگردی اور جائز سیکیورٹی خدشات سے نمٹنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں پر مبنی ہونے چاہئیں۔

اسحاق ڈار کا عالمی تنازعات کے سفارتی حل پر زور

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان عالمی امن و سلامتی کے فروغ اور تنازعات کے سفارتی حل کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔ ان کے مطابق اقوام متحدہ کو عالمی بحرانوں سے نمٹنے میں مرکزی کردار ادا کرنا چاہیے اور ترقی پذیر ممالک کے مفادات کو عالمی ادارے کے ایجنڈے میں مناسب ترجیح ملنی چاہیے۔

وزارت خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے گوتریس کو جموں و کشمیر، سندھ طاس معاہدے، افغانستان اور انسداد دہشتگردی سمیت مختلف معاملات پر پاکستان کے مؤقف سے آگاہ کیا۔ انہوں نے امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مذاکرات میں پاکستان کی سہولت کاری کا بھی ذکر کیا اور تنازعات کے حل کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کو مؤثر راستہ قرار دیا۔

سندھ طاس معاہدہ اور افغانستان کا معاملہ

اسحاق ڈار نے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی پر بھی پاکستان کا مؤقف پیش کرتے ہوئے اسے عالمی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا اور بھارت پر زور دیا کہ وہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے سے گریز کرے۔ انہوں نے افغانستان سے پاکستان کے خلاف دہشتگرد حملوں کے لیے افغان سرزمین کے مبینہ استعمال پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور عالمی برادری سے اس چیلنج سے نمٹنے میں کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔

گوتریس نے پاکستان کی اقوام متحدہ کے لیے طویل خدمات اور امن، سفارت کاری، ثالثی اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کی تعریف کی۔ ان کا اسلام آباد دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور خطے میں کئی سیکیورٹی و سیاسی بحران بیک وقت زیر بحث ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں