27ویں آئینی ترمیم پر مشاورت کے لیے فیصل واوڈا کی مولانا فضل الرحمان سے اہم ملاقات
یوتھ ویژن نیوز: 27ویں آئینی ترمیم کے سلسلے میں جاری سیاسی مشاورت کے دوران سینیٹر فیصل واوڈا نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائش گاہ پر اہم ملاقات کی۔
یہ ملاقات پارلیمنٹ میں زیر غور آئینی ترمیم کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کے درمیان جاری مشاورتی عمل کا حصہ ہے۔ ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں جے یو آئی کے مرکزی ترجمان اسلم غوری بھی شریک تھے۔ ملاقات کے دوران ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، پارلیمانی سرگرمیوں، اور آئینی اصلاحات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ فیصل واوڈا نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم ایک قومی نوعیت کا اقدام ہے جس کے لیے تمام جماعتوں کا اتفاقِ رائے ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آئینی اصلاحات ایسے وقت میں کی جا رہی ہیں جب ملک کو سیاسی استحکام اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کی شدید ضرورت ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے ملاقات کے دوران کہا کہ ان کی جماعت قومی مفاد میں آئینی ترامیم کے اصولی طور پر حق میں ہے، بشرطیکہ یہ ترمیم جمہوریت اور عوامی اختیار کو مضبوط بنائے۔
مزید یہ بھی پڑھیں: تمام جماعتوں سے مشاورت کے بعد 27ویں آئینی ترمیم کا حتمی مسودہ سامنے لائیں گے، خواجہ آصف
دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو کے دوران اس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ پارلیمنٹ کو آئینی اصلاحات کے لیے فعال کردار ادا کرنا چاہیے اور کوئی بھی تبدیلی صرف سیاسی مفاد کے بجائے قومی اتفاقِ رائے کے تحت ہونی چاہیے۔ ملاقات میں آئینی ترمیم کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی گئی، خاص طور پر ان نکات پر جو موجودہ سیاسی ماحول میں اہمیت رکھتے ہیں۔ فیصل واوڈا نے کہا کہ حکومت تمام جماعتوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ اس ترمیم کو جلد از جلد حتمی شکل دی جا سکے۔ ان کے مطابق 27ویں ترمیم کا مقصد اداروں کے درمیان توازن اور آئین کے بنیادی ڈھانچے کو مستحکم بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اختلافی امور پر بھی بات چیت کے ذریعے حل تلاش کرنا چاہتی ہے، تاکہ کوئی بھی فیصلہ یکطرفہ نہ ہو۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آئینی ترمیم کے حوالے سے سیاسی اتفاقِ رائے پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ ملک کو انتشار کے بجائے اتفاق کی سمت میں بڑھنا چاہیے۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی تبادلہ خیال کیا کہ سیاسی عمل کو جاری رکھنے کے لیے اعتماد سازی اور کھلے مکالمے کا تسلسل ضروری ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ملاقات موجودہ سیاسی حالات میں ایک اہم پیش رفت ہے، جو اس بات کا عندیہ دیتی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطوں کا نیا دور شروع ہو چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق آئندہ دنوں میں مزید جماعتوں سے بھی مشاورت کا سلسلہ جاری رہے گا تاکہ 27ویں آئینی ترمیم کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے سے قبل وسیع تر اتفاقِ رائے حاصل کیا جا سکے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ فیصل واوڈا کی یہ ملاقات نہ صرف سیاسی سطح پر روابط کو مضبوط بنانے کی کوشش ہے بلکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت آئینی عمل کو کسی تصادم کے بجائے گفت و شنید کے ذریعے آگے بڑھانا چاہتی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک میں جمہوریت، آئین اور اداروں کی بالادستی کے لیے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔