بنوں دھماکہ: فتنہ الخوارج کے ذیلی گروہ ’اتحاد المجاہدین‘ نے حملے کا اعتراف کر لیا۔

bannu-attack-responsibility-ittihad-ul-mujahideen-afghanistan-link

یوتھ ویژن نیوز : (سیکیورٹی ذرائع) بنوں میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑی پر ہونے والے خودکش حملے کے حوالے سے سیکیورٹی ذرائع نے اہم ترین انکشافات کیے ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، اس بزدلانہ حملے کی ذمہ داری فتنہ الخوارج کے ذیلی گروہ ’اتحاد المجاہدین‘ نے قبول کر لی ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حملے کے تانے بانے براہِ راست سرحد پار افغانستان سے جا ملتے ہیں، جو کہ پاکستان کی سلامتی کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

گل بہادر گروپ اور افغان کنکشن

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، ‘اتحاد المجاہدین’ گروپ کا تعلق فتنہ الخوارج کے بدنامِ زمانہ حافظ گل بہادر گروپ سے ہے۔ اس گروہ کا مرکزی سرغنہ گل بہادر اور اس کے اہم کمانڈرز اس وقت افغانستان میں روپوش ہیں اور وہیں سے پاکستان میں دہشت گردی کی نیٹ ورکنگ کر رہے ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا کہ گزشتہ سال رمضان المبارک میں بنوں کینٹ پر ہونے والے حملے کی منصوبہ بندی بھی اسی گروہ نے افغان سرزمین پر بیٹھ کر کی تھی۔

بنوں میں فتنہ الخوارج کا بزدلانہ حملہ: لیفٹیننٹ کرنل سمیت 2 جوان شہید، جوابی کارروائی میں 5 دہشت گرد ہلاک

یہ گروہ خیبر پختونخوا کے سرحدی اضلاع میں طویل عرصے سے متحرک ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، 2 ستمبر 2025 کو فیڈرل کانسٹیبلری بنوں میں میجر عدنان کی شہادت کا واقعہ ہو یا میر علی سمیت شمالی و جنوبی وزیرستان میں ہونے والے متعدد حملے، ان تمام کی ذمہ داری اسی گروپ نے قبول کی ہے۔ ان حملوں میں نہ صرف قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا بلکہ سرحد پار سے ہونے والی سہولت کاری کے ناقابلِ تردید ثبوت بھی ملے ہیں۔

افغان طالبان رجیم پر سنگین سوالات

سیکیورٹی ذرائع نے افغان طالبان حکومت کی کارکردگی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ فتنہ الخوارج کے مرکزی سرغنہ کی افغانستان میں موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہاں دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے 70 فیصد سے زائد عناصر یا تو افغان نژاد ہیں یا ان کا تعلق کسی نہ طور پر افغانستان سے ہے۔ افغان طالبان رجیم کی جانب سے دہشت گرد تنظیموں کی مبینہ پشت پناہی خطے میں امن کی کوششوں کو مسلسل سبوتاژ کر رہی ہے۔

پاکستان کا دوٹوک موقف

پاکستان نے بارہا بین الاقوامی فورمز پر یہ معاملہ اٹھایا ہے کہ افغان سرزمین کو ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال ہونے سے روکا جائے، تاہم زمین پر صورتحال اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں تخریب کاری کرنے والے گروہ جدید اسلحہ اور ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں جو انہیں سرحد پار پناہ گاہوں میں فراہم کی جاتی ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج ’عزمِ استحکام‘ کے تحت ان تمام بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور ان حملوں کے ماسٹر مائنڈز کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں