ایرانی رہنما علی لاریجانی اسرائیلی حملے میں بیٹے سمیت شہید، ایران کی تصدیق

ایرانی رہنما علی لاریجانی کی فائل فوٹؤ

یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) ایرانی میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ علی لاریجانی اسرائیلی حملے میں اپنے بیٹے مرتضیٰ لاریجانی سمیت شہید ہو گئے ہیں، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس واقعے سے قبل ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ایک ہاتھ سے لکھا پیغام بھی جاری کیا گیا تھا، جس میں شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا تھا۔

دوسری جانب اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے حالیہ کارروائی میں ایرانی قیادت کے اہم افراد کو نشانہ بنایا ہے، جس میں بسیج فورس کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی بھی شامل تھے، جن کی شہادت کی تصدیق پہلے ہی کی جا چکی ہے۔

سیاسی و عسکری پس منظر

علی لاریجانی ایران کی اہم سیاسی شخصیات میں شمار ہوتے تھے، جنہوں نے طویل عرصے تک ملکی سیاست، پارلیمنٹ اور خارجہ امور میں نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ عراق کے شہر نجف میں پیدا ہوئے اور بعد ازاں پاسداران انقلاب میں شمولیت اختیار کی، جہاں سے ان کا سیاسی سفر مضبوط بنیادوں پر استوار ہوا۔ انہوں نے 12 سال تک ایرانی پارلیمنٹ (مجلسِ شورٰی) کے اسپیکر کے طور پر خدمات انجام دیں اور ایران کے جوہری پروگرام کے لیے چیف مذاکرات کار بھی رہے۔ ان کا تعلق ایک بااثر مذہبی و سیاسی خاندان سے تھا، جس کی وجہ سے وہ ایران کی پالیسی سازی میں مرکزی حیثیت رکھتے تھے۔

خطے میں کشیدگی اور ردعمل

اس واقعے کے بعد ایران میں شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ حکام نے واضح کیا ہے کہ اس طرح کے حملے ملک کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ انفرادی رہنماؤں کی شہادت سے نظام کو ہلایا نہیں جا سکتا کیونکہ ایران کا نظام مضبوط اداروں پر قائم ہے۔ ان کے مطابق قیادت کے نقصان کے باوجود ریاستی ڈھانچہ برقرار رہتا ہے اور پالیسیوں کا تسلسل جاری رہتا ہے۔

ممکنہ اثرات اور آئندہ صورتحال

ماہرین کے مطابق علی لاریجانی کی شہادت خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان تناؤ عروج پر ہے۔ اس واقعے کے بعد سفارتی سطح پر بھی ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے، جبکہ عالمی برادری کی جانب سے صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے کوششیں تیز ہو سکتی ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے واقعات نہ صرف خطے کی سیکیورٹی صورتحال کو متاثر کرتے ہیں بلکہ عالمی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں، جس کے نتائج آنے والے دنوں میں مزید واضح ہو سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں