وزیراعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا ترقیاتی پیکیج کا اعلان کردیا۔

پشاور میں وفاقی ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے وزیراعظم شہباز شریف کا خطاب

یوتھ ویژن نیوز : (عمران قذافی سے) -وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پشاور میں وفاقی ایپکس کمیٹی کا اجلاس منعقد اجلاس میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے، دہشت گرد نیٹ ورکس اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف اقدامات، صوبے میں امن و امان کی بہتری اور ترقیاتی منصوبوں پر غور کیا گیا۔

وزیراعظم نے خیبر پختونخوا میں ترقیاتی سرگرمیوں کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے 160 ارب روپے مختص کرنے کا اعلان کیا۔ذرائع کے مطابق، اس پیکیج کا مقصد صوبے میں پائیدار امن، بہتر عوامی خدمات، معاشی مواقع اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو فروغ دینا ہے۔

اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور دیگر وفاقی وزرا، اعلیٰ سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔

دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ

وفاقی ایپکس کمیٹی نے ہر قسم کی دہشت گردی کے خاتمے اور دہشت گرد نیٹ ورکس، ان کے سہولت کاروں اور معاون ڈھانچے کے خلاف کارروائیوں کی ضرورت پر زور دیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم اور تمام ریاستی اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

پشاور میں وفاقی ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے وزیراعظم شہباز شریف کا خطاب
وزیراعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخواکے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کررہے ہیں

شرکا کے مطابق، اس مقصد کے لیے اداروں کے درمیان مسلسل رابطہ، خفیہ معلومات کا مؤثر تبادلہ اور مربوط اقدامات ضروری ہیں۔ اجلاس میں یہ عزم بھی ظاہر کیا گیا کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو برقرار رکھنے کے لیے کوششیں جاری رہیں گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں پائیدار امن، شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اور سماجی و معاشی ترقی وفاقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔

پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعداد بڑھانے پر غور

اجلاس میں خیبر پختونخوا پولیس، محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار بہتر بنانے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

ان اقدامات میں پیشہ ورانہ تربیت، جدید آلات کی فراہمی، بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا، خفیہ معلومات جمع کرنے کی صلاحیت میں اضافہ اور اداروں کے درمیان رابطہ کاری مضبوط کرنا شامل ہے۔

شرکا نے زور دیا کہ شہریوں کے تحفظ اور ریاستی عمل داری یقینی بنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مؤثر وسائل فراہم کرنا ضروری ہے۔ وزیراعظم نے بھی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے ضروری تعاون فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

ضم شدہ اضلاع اور پسماندہ علاقوں کی ترقی

اجلاس میں خیبر پختونخوا کی مجموعی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔ اس دوران صوبے کے انتظامی امور، حکومتی نظام میں اصلاحات، احتساب، شفافیت اور عوامی خدمات بہتر بنانے کے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔

شرکا نے خصوصاً ضم شدہ قبائلی اضلاع اور دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں کی ترقی پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان علاقوں میں تعلیم، صحت، روزگار، سرمایہ کاری اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کو پائیدار امن کے لیے اہم قرار دیا گیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا کہ وفاقی حکومت ’’بدلتا، نکھرتا، مضبوط خیبر پختونخوا‘‘ پروگرام کے لیے 160 ارب روپے مختص کرے گی۔ ان کے مطابق، ترقیاتی اقدامات کا مقصد مقامی آبادی کے مسائل حل کرنا اور معاشی مواقع پیدا کرنا ہے۔

ایریا ڈیولپمنٹ کونسل کے ارکان سے ملاقات

وزیراعظم نے قبائلی اضلاع کے نمائندوں پر مشتمل ایریا ڈیولپمنٹ کونسل (اے آر ڈی سی) کے ارکان سے الگ ملاقات بھی کی۔ اس موقع پر قبائلی نمائندوں نے دہشت گردی کے خاتمے اور مستقل امن کے قیام کے عزم کا اعادہ کیا۔

کونسل کے ارکان نے سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حمایت جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔ ان کا کہنا تھا کہ پائیدار امن، معاشی ترقی اور عوام کے معیار زندگی میں بہتری کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

وزیراعظم نے قبائلی اضلاع کے عوام کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت ان علاقوں میں عوامی فلاح، روزگار اور ترقیاتی منصوبوں کی حمایت جاری رکھے گی۔

ترقیاتی منصوبوں اور بہتر حکمرانی پر زور

اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ سکیورٹی کے شعبے میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو عملی ترقی اور بہتر عوامی خدمات میں تبدیل کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے مقامی آبادی کی شمولیت، اداروں کے درمیان رابطہ کاری اور منصوبوں پر مؤثر عمل درآمد ضروری قرار دیا گیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل، تعلیم و صحت کی سہولیات اور معاشی مواقع کی فراہمی کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ کوئی دھمکی یا تشدد خیبر پختونخوا کے عوام کے لیے پُرامن اور خوشحال مستقبل کی کوششوں کو کمزور نہیں کرسکتا۔

اجلاس کے اختتام پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں