سندھ طاس معاہدہ پاکستانیوں کی زندگی اور بقا کا مسئلہ ہے، وفاقی وزیر عطاء تارڑ
یوتھ ویژن نیوز : (اسلام آباد)- وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے سندھ طاس معاہدے کو پاکستان کے لیے زندگی، بقا، زراعت اور معیشت سے جڑا اہم بین الاقوامی معاہدہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاہدے کی یکطرفہ معطلی قانونی طور پر قابل قبول نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے اپنا مؤقف سفارتی اور قانونی سطح پر اجاگر کرتا رہے گا۔
عطاء تارڑ نے اسلام آباد میں انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (ISSI) کی جانب سے ”پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا: سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے تاریخی، قانونی اور تذویراتی پہلو“ کے عنوان سے خصوصی رپورٹ کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ محض ایک کاغذی دستاویز نہیں بلکہ پاکستان اور خطے میں پانی کے انتظام اور استحکام سے متعلق ایک بنیادی قانونی فریم ورک ہے۔
سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے لیے کیوں اہم ہے؟
وفاقی وزیر کے مطابق پاکستان کی آبادی، زراعت، خوراک اور معیشت بڑی حد تک دریائے سندھ کے آبی نظام سے جڑی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی ہونے پر فخر ہے کہ ملک کا تعلق سندھ طاس کی قدیم تہذیب سے ہے اور 1960 میں معاہدہ طے ہونے کے بعد اس کے تحت پیدا ہونے والی ذمہ داریاں متعلقہ فریقین کے لیے اہم ہیں۔
پاکستانی حکومت مسلسل یہ مؤقف پیش کرتی رہی ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ایک طویل المدتی بین الاقوامی معاہدہ ہے جس کے تحت بھارت اور پاکستان کے درمیان دریاؤں کے پانی کے استعمال اور اختلافات کے حل کے لیے مخصوص طریقہ کار موجود ہے۔ وزارت خارجہ نے بھی کہا ہے کہ معاہدے میں یکطرفہ طور پر اسے معطل یا ختم کرنے کی کوئی شق موجود نہیں۔
عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کا حوالہ
عطاء تارڑ نے اپنے خطاب میں عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ اس سے پاکستان کے مؤقف کو تقویت ملی ہے۔ مستقل ثالثی عدالت (PCA) کے تحت قائم عدالتِ ثالثی نے 31 اگست 2026 کو سندھ طاس معاہدے کی حیثیت سے متعلق فیصلہ جاری کیا تھا۔
عدالت نے بھارت کی جانب سے اپریل 2025 میں معاہدے کو ”abeyance“ میں رکھنے کے فیصلے کا جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ معاہدے کو معطل یا ختم کرنے کے لیے بھارت کی پیش کردہ بنیادیں معاہدے یا قابل اطلاق بین الاقوامی قانون کے تحت کافی نہیں تھیں۔ PCA کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق عدالت نے اس معاملے پر فیصلہ جاری کیا، جبکہ ساتھ ہی رٹل ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ سے متعلق عبوری اقدامات کا حکم بھی دیا۔
پاکستان کی وزارت خارجہ نے یکم ستمبر 2026 کے بعد جاری بریفنگ میں کہا کہ عدالت نے سندھ طاس معاہدے کو اب بھی نافذ اور پابند قرار دیا ہے اور بھارت کا یکطرفہ فیصلہ اس کی ذمہ داریوں کو ختم نہیں کرتا۔
پانی کو بطور ہتھیار استعمال نہ کرنے کا مؤقف
عطاء تارڑ نے کہا کہ پاکستان امن چاہتا ہے، تاہم پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ انہوں نے سندھ طاس معاہدے کو خطے میں امن اور استحکام کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو اس معاملے کے وسیع تر اثرات کو سمجھنا ہوگا۔
وفاقی وزیر نے خبردار کیا کہ اگر کسی ریاست کو یکطرفہ طور پر ایک پابند بین الاقوامی آبی معاہدے کو معطل کرنے کی اجازت دی جائے تو اس کے اثرات دنیا کے دیگر ممالک تک بھی پہنچ سکتے ہیں جہاں سرحد پار دریاؤں اور پانی کی تقسیم سے متعلق معاہدے موجود ہیں۔ ان کے مطابق یہ معاملہ صرف پاکستان اور بھارت تک محدود نہیں بلکہ بین الاقوامی آبی نظم و نسق کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔
پاکستان کا سفارتی اور قانونی راستہ جاری رکھنے کا اعلان
عطاء تارڑ کے مطابق پاکستان نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق اپنا مؤقف سفارتی سطح پر عالمی برادری کے سامنے رکھا ہے اور آئندہ بھی یہ عمل جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے اہم قومی مفادات کا دفاع بین الاقوامی قانون کے مطابق کرے گا۔
پاکستانی وزارت خارجہ بھی پہلے واضح کرچکی ہے کہ اسلام آباد سندھ طاس معاہدے میں موجود قانونی، سیاسی اور تنازع حل کرنے کے طریقہ کار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب راستے اختیار کرے گا۔
وزیراعظم کے اقوام متحدہ خطاب کا حوالہ
عطاء تارڑ نے وزیراعظم شہباز شریف کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں دیے گئے خطاب کا حوالہ بھی دیا، جس میں سندھ طاس معاہدے کو خطے اور پاکستان کے عوام کے لیے انتہائی اہم قرار دیا گیا تھا۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق عطاء تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے آبی حقوق میں کسی بھی قسم کی مداخلت کو سنگین معاملہ سمجھا جائے گا۔
بھارت کے مؤقف کے پس منظر میں تنازع
بھارت نے اپریل 2025 میں پہلگام حملے کے بعد سندھ طاس معاہدے کو ”abeyance“ میں رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کی قانونی حیثیت اور اس پر عملدرآمد کے معاملے میں شدید اختلاف پیدا ہوا۔
عدالتِ ثالثی نے اگست 2026 کے فیصلے میں بھارت کی جانب سے معاہدے کی حیثیت بدلنے کے لیے پیش کردہ قانونی بنیادوں کو ناکافی قرار دیا، تاہم بھارت نے ان کارروائیوں کی قانونی حیثیت پر اعتراض کیا ہے۔ بین الاقوامی ماہرین کے مطابق اس تنازع میں قانونی فیصلوں کے ساتھ سیاسی اور سفارتی عوامل بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
عطاء تارڑ نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے لیکن اپنے پانی کے حقوق کے تحفظ سے دستبردار نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدے کا احترام خطے میں استحکام اور سرحد پار پانی کے بہتر انتظام کے لیے ضروری ہے، جبکہ پاکستان اس معاملے کو سفارتی اور قانونی فورمز پر اٹھاتا رہے گا۔