خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز،7 دہشت گرد جہنم واصل
یوتھ ویژن نیوز : (آئی ایس پی آر)- خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی الگ الگ انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کے دوران 7 دہشتگردوں کو ہلاک کیے جانے کی اطلاع ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا کے علاقے باڑہ میں کارروائی کے دوران 5 دہشتگرد ہلاک ہوئے، جبکہ بلوچستان کے ضلع چاغی کے علاقے نوکچہ میں 2 دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کی گئی۔ ان کارروائیوں کے دوران اسلحہ و گولہ بارود بھی برآمد کیے جانے کی اطلاع ہے۔
باڑہ میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا کے علاقے باڑہ میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائی کی، جس کے نتیجے میں فتنہ الہندوستان سے منسلک قرار دیے گئے 5 دہشتگرد ہلاک ہوئے۔ کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے خلاف مؤثر ایکشن کیا جبکہ ان کے ٹھکانوں کو نقصان پہنچنے اور بڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد کیے جانے کی اطلاع ہے۔
حکام کے مطابق خیبرپختونخوا میں انسداد دہشتگردی کارروائیاں عزم استحکام ویژن کے تحت جاری ہیں۔ اس سے قبل بھی صوبے کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیوں میں دہشتگردوں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ 28 ستمبر 2026 کو ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 4 دہشتگرد ہلاک کیے جانے کی سرکاری اطلاع سامنے آئی تھی۔
بلوچستان کے نوکچہ میں 2 دہشتگرد ہلاک
دوسری جانب بلوچستان کے ضلع چاغی کے علاقے نوکچہ میں بھی سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کی۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فتنہ الہندوستان سے منسلک قرار دیے گئے افراد نے ایک خالی واٹر باؤزر کو آگ لگانے کے بعد فرار ہونے کی کوشش کی، تاہم سیکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 2 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔
پاکستان ٹوڈے کی 28 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق نوکچہ میں دو مشتبہ مسلح افراد کی جانب سے خالی واٹر باؤزر جلانے کے بعد فرار ہونے کی کوشش کی گئی، جس کے بعد سیکیورٹی فورسز نے تعاقب کیا اور فائرنگ کے تبادلے میں دونوں ہلاک ہوگئے۔ رپورٹ میں سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے ان افراد کو کالعدم بلوچ لبریشن آرمی سے منسلک بتایا گیا اور این 40 شاہراہ پر ماضی کی آتشزدگی کی کارروائیوں سے بھی جوڑا گیا۔
این 40 شاہراہ پر تخریبی کارروائیوں کا معاملہ
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق نوکچہ میں ہلاک کیے گئے دونوں دہشتگرد این 40 کوئٹہ، تفتان شاہراہ کے مختلف مقامات پر آتشزدگی کی مبینہ کارروائیوں میں ملوث تھے۔ یہ علاقہ بلوچستان کی اہم شاہراہوں میں شمار ہوتا ہے اور یہاں سیکیورٹی صورتحال، نقل و حرکت اور مسافروں کے تحفظ سے متعلق اقدامات مسلسل زیر غور رہتے ہیں۔
اس سے قبل 31 اگست کو بھی نوکچہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں سیکیورٹی کارروائیوں کے دوران دہشتگردوں کی ہلاکت کی سرکاری اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ یکم ستمبر کی سرکاری رپورٹ کے مطابق نوکچہ اور دیگر مقامات پر مختلف واقعات کے دوران 21 دہشتگرد ہلاک کیے گئے تھے۔
بلوچستان میں انسداد دہشتگردی کارروائیاں جاری
بلوچستان میں رواں ماہ سیکیورٹی فورسز کی متعدد کارروائیوں میں دہشتگردوں کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ 19 ستمبر کو پنجگور اور چاغی کے مختلف علاقوں میں 11 دہشتگردوں کی ہلاکت اور بڑی مقدار میں اسلحہ و دیگر مواد برآمد کیے جانے کی سرکاری اطلاع دی گئی تھی۔
اس کے بعد 21 ستمبر سے بلوچستان میں مختلف کارروائیوں کے حوالے سے آئی ایس پی آر نے بھی متعدد دہشتگردوں کی ہلاکت کی اطلاع دی۔ 27 ستمبر کی سرکاری رپورٹ کے مطابق صوبے میں گزشتہ 96 گھنٹوں کے دوران مختلف کارروائیوں میں 71 سے زائد دہشتگرد مارے جانے کی اطلاع دی گئی تھی، جس میں آپریشن شعبان سمیت متعدد علاقوں کی کارروائیاں شامل تھیں۔
سیکیورٹی فورسز کا کارروائیاں جاری رکھنے کا عزم
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر مشتبہ ٹھکانوں اور سرگرمیوں کے خلاف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ریاستی مؤقف کے مطابق عزم استحکام اور آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت جاری انسداد دہشتگردی مہم کا مقصد ملک میں دہشتگردی کے خطرے کو کم کرنا، شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا اور پائیدار امن کے لیے سیکیورٹی اقدامات کو مضبوط بنانا ہے۔ بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے حوالے سے حالیہ سرکاری بیانات میں بھی اسی عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔
تازہ کارروائیوں میں مجموعی طور پر 7 دہشتگردوں کی ہلاکت کی اطلاع سامنے آئی ہے، جن میں 5 باڑہ اور 2 چاغی کے نوکچہ علاقے میں ہلاک کیے جانے کا بتایا گیا ہے۔ باڑہ کی کارروائی کی تفصیلات سیکیورٹی ذرائع سے منسوب ہیں، جبکہ نوکچہ کے واقعے کی الگ میڈیا رپورٹ بھی دستیاب ہے۔ مزید تفصیلات متعلقہ سرکاری اداروں کی جانب سے سامنے آنے پر صورتحال مزید واضح ہوسکتی ہے۔
حوالہ: سیکیورٹی ذرائع