وزیراعظم کا 100 روپے فی لیٹر پیٹرول ریلیف اسکیم کیسے حاصل کریں؟ رجسٹریشن کا مکمل طریقہ

وزیراعظم کی 100 روپے فی لیٹر پیٹرول ریلیف اسکیم میں رجسٹریشن، 9771 پر SMS، TOK ٹوکن، اہلیت اور رعایتی پیٹرول لینے کا مکمل طریقہ جانیں۔

یوتھ ویژن نیوز : (اسلام آباد)- وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بڑھتی ہوئی پیٹرولیم قیمتوں کے اثرات کم کرنے کے لیے اعلان کردہ خصوصی فیول ریلیف اسکیم کا رجسٹریشن طریقہ کار جاری کردیا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق اہل موٹرسائیکل، رکشا، چنگچی اور دیگر دو و تین پہیوں والی گاڑیوں جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کو پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف دیا جائے گا۔ وزارتِ اطلاعات کے مطابق شہری گھر بیٹھے SMS کے ذریعے رجسٹریشن کرسکتے ہیں اور پیٹرول لینے سے پہلے 9771 پر TOK بھیج کر فیول ٹوکن حاصل کرنا ہوگا۔

100 روپے فی لیٹر پیٹرول ریلیف کن لوگوں کے لیے ہے؟

حکومت نے یہ اسکیم عام طور پر تمام گاڑیوں کے لیے نہیں بلکہ مخصوص صارفین کو بڑھتی ہوئی ایندھن قیمتوں کے اثرات سے بچانے کے لیے متعارف کرائی ہے۔

اس میں موٹرسائیکل، رکشا، چنگچی اور دیگر اہل دو اور تین پہیوں والی گاڑیاں شامل ہیں۔ اسی طرح 800 سی سی تک انجن رکھنے والی چھوٹی گاڑیوں کے صارفین بھی مقررہ شرائط پوری کرنے کی صورت میں ریلیف حاصل کرسکتے ہیں۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق اسکیم غیر تجارتی صارفین کے لیے ہے اور ایک صارف یا مالک کے لیے ایک گاڑی تک ریلیف محدود رکھا گیا ہے۔

9771 پر رجسٹریشن کیسے ہوگی؟

وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن نے رجسٹریشن کا طریقہ کار نسبتاً آسان رکھا ہے۔ اہل شہری اپنے موبائل فون سے 9771 پر SMS بھیج کر رجسٹریشن کرسکتے ہیں۔

SMS میں مطلوبہ معلومات فراہم کرنا ہوں گی، جن میں شناختی کارڈ نمبر، گاڑی کا رجسٹریشن نمبر، گاڑی کے رجسٹریشن صوبے کا ابتدائی حرف اور رجسٹریشن کی تاریخ شامل ہے۔ وزارتِ آئی ٹی کے مطابق یہی معلومات 9771 پر بھیجنے سے رجسٹریشن کا عمل مکمل کیا جاسکتا ہے۔

یعنی درخواست گزار کو بنیادی طور پر اپنے CNIC، گاڑی کے نمبر، صوبائی کوڈ اور گاڑی کی رجسٹریشن تاریخ کی درست معلومات فراہم کرنا ہوگی۔

رجسٹریشن کے بعد کیا کرنا ہوگا؟

صرف رجسٹریشن SMS بھیجنا کافی نہیں ہوگا۔ رجسٹریشن مکمل ہونے اور اہلیت کی تصدیق کے بعد جب پیٹرول حاصل کرنا ہو تو شہری کو دوبارہ TOK لکھ کر 9771 پر SMS بھیجنا ہوگا۔

اس کے جواب میں فیول ریلیف ٹوکن جاری کیا جائے گا۔ اس ٹوکن نمبر کو متعلقہ پیٹرول اسٹیشن پر دکھانے کے بعد اہل صارف مقررہ مقدار میں پیٹرول رعایتی قیمت پر حاصل کرسکے گا۔

بائیک اور رکشا کو کتنے لیٹر پر ریلیف ملے گا؟

سرکاری ECC کے مطابق دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے ریلیف ہفتہ وار 5 لیٹر کے حساب سے مقرر کیا گیا ہے، یعنی 100 روپے فی لیٹر کے حساب سے فی ہفتہ زیادہ سے زیادہ 500 روپے کا فائدہ ہوگا۔ ماہانہ بنیاد پر یہ مقدار 20 لیٹر تک بنتی ہے، جس سے زیادہ سے زیادہ 2,000 روپے ماہانہ ریلیف حاصل ہوسکتا ہے۔

800 سی سی تک گاڑیوں کو کتنا ریلیف ملے گا؟

800 سی سی تک کی اہل گاڑیوں کے لیے ماہانہ حد 30 لیٹر رکھی گئی ہے۔ 100 روپے فی لیٹر ریلیف کے حساب سے ایسی گاڑی کے صارف کو زیادہ سے زیادہ 3,000 روپے ماہانہ کا فائدہ ہوسکتا ہے۔

ECC کے سرکاری اعلامیے کے مطابق چھوٹی گاڑیوں کے لیے ریلیف 10 دن کی بنیاد پر 10 لیٹر کے حساب سے بھی بیان کیا گیا ہے، یعنی ہر اہل ٹوکن پر مقررہ مقدار کے مطابق فائدہ دیا جائے گا۔

پیٹرول پمپ پر رعایت کیسے ملے گی؟

رجسٹریشن مکمل ہونے کے بعد جب صارف پیٹرول حاصل کرنا چاہے تو اسے پہلے 9771 پر TOK بھیج کر ٹوکن حاصل کرنا ہوگا۔

ٹوکن موصول ہونے کے بعد اسے متعلقہ یا شرکت کرنے والے پیٹرول اسٹیشن پر پیش کیا جائے گا۔ وہاں نظام کے ذریعے صارف کی اہلیت اور ٹوکن کی تصدیق کے بعد مقررہ مقدار میں پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف دیا جائے گا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ صارف کو ہر مرتبہ محض شناختی کارڈ دکھانے کے بجائے اسکیم کے ڈیجیٹل ٹوکن کے ذریعے رعایت حاصل کرنا ہوگی۔

اسکیم کب شروع ہوگی؟

حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اسکیم کا نفاذ مرحلہ وار کیا جارہا ہے۔ اسلام آباد میں یہ سہولت 14 اور 15 ستمبر کی درمیانی شب سے شروع ہونے کا اعلان کیا گیا، جبکہ ملک کے دیگر حصوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں اس کا آغاز 16 اور 17 ستمبر کی درمیانی شب سے ہونا ہے۔

وزارتِ پیٹرولیم کے مطابق حکومت اس پروگرام کے لیے ماہانہ 25 ارب روپے فراہم کرے گی۔

رجسٹریشن کرتے وقت کن باتوں کا خیال رکھیں؟

درخواست دیتے وقت شناختی کارڈ، گاڑی کا نمبر اور رجسٹریشن تاریخ بالکل درست درج کرنا ضروری ہے۔ غلط معلومات کی صورت میں خودکار تصدیقی نظام درخواست کو مسترد کرسکتا ہے۔

حکومت نے اسکیم کو ڈیجیٹل انداز میں چلانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مستحق صارفین تک ریلیف پہنچانے کے ساتھ شفافیت اور جواب دہی بھی برقرار رکھی جاسکے۔ وزارتِ آئی ٹی، نادرا، ٹیلی کام آپریٹرز اور متعلقہ صوبائی اداروں کے ڈیٹا کے ذریعے تصدیقی نظام استعمال کیا جارہا ہے۔

پیٹرول ریلیف اسکیم کا مقصد کیا ہے؟

وزیراعظم شہباز شریف نے یہ اسکیم عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث پاکستان میں بڑھنے والے ایندھن کے اخراجات کے اثرات کم کرنے کے لیے اعلان کی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ محدود وسائل کے باوجود کم آمدنی والے اور زیادہ متاثر ہونے والے طبقات کو براہ راست ریلیف فراہم کرنا ترجیح ہے۔ اس لیے عمومی طور پر تمام صارفین کے لیے پیٹرول سستا کرنے کے بجائے مخصوص گاڑیوں اور صارفین کو ٹارگٹڈ سبسڈی دی جارہی ہے۔

اہم بات: رجسٹریشن اور اہلیت میں فرق

شہریوں کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ SMS بھیج دینا خودکار طور پر ریلیف کی حتمی منظوری نہیں ہے۔ درخواست میں فراہم کردہ معلومات کی تصدیق کے بعد ہی اہل صارف کو اسکیم کے تحت فائدہ دیا جائے گا۔

اسی طرح تجارتی استعمال والی گاڑیوں اور مقررہ معیار سے باہر آنے والی گاڑیوں کو اسکیم میں شامل نہیں کیا گیا۔ اس لیے رجسٹریشن سے پہلے اپنی گاڑی اور استعمال کی نوعیت سے متعلق اہلیت ضرور دیکھیں۔

وزیراعظم کی اس اسکیم کے ذریعے حکومت نے پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کا بوجھ براہ راست ان صارفین تک محدود کرنے کی کوشش کی ہے جو روزمرہ آمدورفت اور روزگار کے لیے موٹرسائیکل، رکشا، چنگچی یا چھوٹی گاڑیوں پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ 9771 پر رجسٹریشن اور بعد میں TOK کے ذریعے ٹوکن کا نظام اسی ٹارگٹڈ ریلیف کو ڈیجیٹل اور قابلِ نگرانی بنانے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں