حکومت کے خلاف بڑا محاذ، حافظ نعیم الرحمان نے اسلام آباد مارچ کی دھمکی دے دی
یوتھ ویژن نیوز : (خواجہ عبدالرحمن سے)- امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے حکومت پر عوام کو پٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسوں کے ذریعے معاشی دباؤ میں رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے جماعت اسلامی کے مطالبات پر واضح پیش رفت نہ کی تو احتجاجی تحریک کو اسلام آباد تک لے جایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی مزید انتظار کے بجائے اسلام آباد مارچ کی تیاری کر رہی ہے اور مارچ کی حتمی تاریخ قیادت کی مشاورت سے طے کی جائے گی۔
پٹرولیم لیوی پر حکومت کو شدید تنقید
دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کی پٹرولیم پالیسی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا حوالہ دے کر پٹرول مہنگا کرتی ہے، تاہم ان کے مطابق پٹرولیم لیوی کا تعلق عالمی قیمتوں سے الگ ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے دعویٰ کیا کہ عوام پہلے ہی مہنگائی، ٹیکسوں اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ حکمران طبقے کی شاہ خرچیاں کم کرنے کے بجائے عام شہریوں پر مزید مالی بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔
جماعت اسلامی کے امیر گزشتہ کئی روز سے پٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوام کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریلیف دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے حالیہ دنوں میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا تھا کہ لیوی میں کمی کرکے پٹرول کی قیمت میں نمایاں کمی ممکن ہے۔
’’لیوی کے نام پر عوام پر بوجھ ڈالا جا رہا ہے‘‘
حافظ نعیم الرحمان نے اپنے خطاب میں کہا کہ طلبہ، کسان، مزدور، اساتذہ اور عام شہری پٹرولیم لیوی کے بالواسطہ اثرات سے متاثر ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق پٹرول کی قیمت میں اضافہ صرف گاڑی چلانے والوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی متعدد مصنوعات کی قیمتوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے غیر ضروری اخراجات کم کیے جائیں اور پٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسوں اور لیوی پر نظرثانی کی جائے۔
تاہم پٹرولیم لیوی سے متعلق جماعت اسلامی کے دعوے پارٹی کا سیاسی مؤقف ہیں۔ حکومت اور متعلقہ حکام کی جانب سے پٹرولیم قیمتوں کے تعین میں عالمی منڈی، ٹیکسوں، درآمدی لاگت اور دیگر عوامل کو مدنظر رکھنے کی وضاحت کی جاتی رہی ہے۔
حکومت اور جماعت اسلامی کے مذاکرات
جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان پٹرولیم لیوی اور عوامی ریلیف کے معاملے پر مذاکرات بھی ہو چکے ہیں۔ 3 ستمبر کو دونوں فریقوں نے پٹرولیم لیوی میں کمی اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے الگ الگ ماہرین کی کمیٹیاں تشکیل دینے پر اتفاق کیا تھا۔ حکومتی نمائندوں میں وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثناء اللہ شامل تھے۔
جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ حکومتی کمیٹی نے اپنی متعلقہ وزارتوں اور محکموں سے تجاویز لینے کے لیے وقت مانگا، تاہم پارٹی قیادت اب مزید تاخیر کے حق میں نہیں۔
حافظ نعیم الرحمان کے مطابق جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیم کے حکومت کے ساتھ دو دور ہوچکے ہیں، لیکن پارٹی کو اپنے مطالبات پر عملی اور واضح جواب نہیں ملا۔ اسی تناظر میں انہوں نے احتجاج کو اسلام آباد منتقل کرنے کی دھمکی دی ہے۔
26 روزہ دھرنے کے بعد احتجاج میں نیا مرحلہ
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی کے دھرنوں نے ملک میں پٹرولیم لیوی اور عوامی معاشی مسائل کو نمایاں کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ احتجاجی دھرنوں کے باعث حکومت پر دباؤ بڑھا اور پٹرولیم لیوی کا معاملہ قومی بحث کا حصہ بنا۔
تازہ رپورٹس کے مطابق جماعت اسلامی کا دھرنا 10 ستمبر کو 26ویں روز میں داخل ہوچکا تھا۔ پارٹی کی جانب سے ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی سرگرمیاں بھی جاری رکھی گئی ہیں۔ اس سے قبل جماعت اسلامی نے 10 ستمبر کو حکومت کو پٹرولیم لیوی کے معاملے پر واضح پیش رفت کی ڈیڈ لائن دی تھی۔
گوجرانوالہ جلسے میں مارچ کی تاریخ کا اعلان متوقع
حافظ نعیم الرحمان نے بتایا کہ جماعت اسلامی کی مرکزی قیادت کا اجلاس اگلے روز منصورہ میں ہوگا، جس میں اسلام آباد مارچ کی حتمی تاریخ پر مشاورت کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ گوجرانوالہ کے جلسے سے بھی خطاب کریں گے اور وہاں لانگ مارچ سے متعلق اعلان کیا جائے گا۔
جماعت اسلامی کے گوجرانوالہ جلسے کا اعلان پہلے ہی 11 ستمبر کے لیے کیا جاچکا ہے۔ پارٹی کے مطابق جلسے میں پٹرولیم لیوی، مہنگی بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے خلاف احتجاجی مؤقف پیش کیا جائے گا۔
جماعت اسلامی کا حکومت پر دباؤ بڑھانے کا فیصلہ
حافظ نعیم الرحمان نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے ان سے اسلام آباد کی کال کے لیے تیار رہنے کا سوال بھی کیا اور کہا کہ جماعت اسلامی ایک منظم سیاسی جماعت ہے جو اپنی قیادت کے فیصلوں کے مطابق پرامن احتجاج جاری رکھے ہوئے ہے۔
جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ اس کی تحریک کا بنیادی مقصد پٹرولیم لیوی اور دیگر ایسے ٹیکسوں میں کمی یا خاتمہ ہے جنہیں پارٹی عوام پر اضافی مالی بوجھ قرار دیتی ہے۔ دوسری جانب حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کا عمل سیاسی کشیدگی کے باوجود جاری رہا ہے۔
اب اگلا اہم مرحلہ جماعت اسلامی کی مرکزی قیادت کی مشاورت اور گوجرانوالہ جلسے میں سامنے آنے والے اعلان کو قرار دیا جا رہا ہے۔ اگر جماعت اسلامی واقعی اسلام آباد مارچ کی تاریخ کا اعلان کرتی ہے تو حکومت کے لیے مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل کرنے اور احتجاجی تحریک کو دارالحکومت تک پہنچنے سے روکنے کا چیلنج مزید بڑھ سکتا ہے۔