مکہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں، خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے، وزیر خارجہ اسحاق ڈار
یوتھ ویژن نیوز :(اسلام آباد)- نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کسی بھی ملک کے خلاف نہیں بلکہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے، جس کا بنیادی مقصد علاقائی امن، سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے لیے مشترکہ کوششوں کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
نائب وزیراعظم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’ایکس‘‘ پر جاری اپنے بیان میں معاہدے کے حوالے سے بعض خدشات اور سوالات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد کسی ریاست کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ خطے میں امن و سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون کو فروغ دینا ہے۔
معاہدہ دیگر ممالک کے لیے بھی کھلا ہے
اسحاق ڈار کے مطابق مکہ معاہدہ خطے کے ان دیگر ممالک کے لیے بھی کھلا ہے جو اپنے اختلافات اور تنازعات کو پرامن ذرائع سے حل کرنے کے خواہاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بنیادی اصولوں اور علاقائی امن کے عزم سے ہم آہنگ ہے۔
نائب وزیراعظم نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان خطے کے تمام برادر ممالک کے ساتھ دیرپا امن، استحکام اور باہمی تعاون کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے برادرانہ تعلقات
اسحاق ڈار نے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کی قیادتوں اور عوام کے درمیان موجود برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
ان کے مطابق یہ معاہدہ اچانک ہونے والی پیش رفت نہیں بلکہ کئی سال پر محیط بات چیت، مشاورت اور باہمی ہم آہنگی کا نتیجہ ہے۔ معاہدے کے ذریعے تینوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون کو مزید منظم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے 7 اگست 2026 کو مکہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ Reuters کے مطابق معاہدے میں ایک رکن پر مسلح حملے کو تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کرنے کا اصول شامل ہے، جبکہ فریقین نے اس اقدام کو کسی مخصوص ریاست کے خلاف قرار دینے سے گریز کیا ہے۔
امن اور علاقائی استحکام بنیادی مقصد
نائب وزیراعظم نے کہا کہ مکہ معاہدے کا مقصد امن اور سلامتی سے متعلق چیلنجز کا مقابلہ کرنا، باہمی تعاون بڑھانا اور علاقائی استحکام و خوشحالی کو فروغ دینا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ مکہ معاہدے کے نتیجے میں پاکستان، سعودی عرب یا ترکی کے کسی موجودہ دو طرفہ یا کثیرالجہتی معاہدے کو منسوخ یا تبدیل نہیں کیا گیا۔ اس طرح نئے دفاعی فریم ورک کو پہلے سے موجود بین الاقوامی اور علاقائی شراکت داریوں کے ساتھ مربوط رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔
تازہ عالمی رپورٹنگ کے مطابق ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے بھی معاہدے کو کسی مخصوص ملک کے خلاف نہ ہونے کی وضاحت کی ہے اور اسے تینوں ممالک کی سلامتی کے لیے باہمی تعاون کا فریم ورک قرار دیا ہے۔
ایک ملک پر حملہ تینوں کے خلاف حملہ تصور ہوگا
اسحاق ڈار نے معاہدے کی دفاعی نوعیت کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس کی ایک اہم شق کے تحت کسی ایک ملک پر بیرونی مسلح حملے کو تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ اصول اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 میں تسلیم شدہ انفرادی اور اجتماعی دفاع کے فطری حق کے مطابق ہے۔
اس شق کا بنیادی مقصد رکن ممالک کے درمیان دفاعی تعاون اور باہمی تحفظ کے عزم کو واضح کرنا ہے۔ تاہم اسحاق ڈار کے مطابق معاہدے کی بنیاد کسی مخصوص ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ دفاع، امن اور سلامتی کا فروغ ہے۔
موجودہ معاہدوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا
نائب وزیراعظم نے واضح کیا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے موجودہ دو طرفہ یا کثیرالجہتی معاہدوں کو ختم یا تبدیل نہیں کرتا۔
ان کے بیان کے مطابق نئے معاہدے کو اس انداز میں تشکیل دیا گیا ہے کہ یہ پہلے سے موجود تعاون اور شراکت داریوں کے ساتھ چل سکے۔ اس پہلو کو اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ تینوں ممالک پہلے ہی مختلف علاقائی اور بین الاقوامی فورمز پر تعاون کرتے ہیں۔
پاکستان کا پرامن حل کے لیے عزم
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان خطے میں موجود تمام تنازعات کے پرامن حل کی حمایت جاری رکھے گا۔ ان کے مطابق پاکستان تمام برادر ممالک کے ساتھ ایسے تعاون کے لیے پرعزم ہے جس سے خطے میں دیرپا امن اور استحکام قائم ہو سکے۔
نائب وزیراعظم نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ پاکستان عوام کے لیے زیادہ محفوظ، مستحکم اور خوشحال مستقبل کی تعمیر کے لیے سفارتی اور علاقائی تعاون کو فروغ دیتا رہے گا۔
معاہدے کے علاقائی اثرات
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ اور وسیع تر خطے میں سلامتی کے معاملات بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ اسی تناظر میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کی جانب سے مشترکہ دفاعی تعاون کا فریم ورک قائم کرنا علاقائی سلامتی کے حوالے سے ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تاہم پاکستانی حکام کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ معاہدے کی بنیاد کسی مخصوص ملک کے خلاف محاذ آرائی نہیں بلکہ دفاعی تعاون، علاقائی امن اور استحکام ہے۔
اسحاق ڈار کی وضاحت کے مطابق پاکستان معاہدے کو وسیع تر علاقائی امن کے تناظر میں دیکھتا ہے اور خطے کے ان ممالک کے لیے بھی تعاون کا دروازہ کھلا رکھنا چاہتا ہے جو اختلافات کو مذاکرات اور پرامن ذرائع سے حل کرنے کے خواہاں ہیں۔