پاک، ترک، سعودی دفاعی معاہدے میں مصر کی شمولیت متوقع،ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان کا اہم بیان
انقرہ (یوتھ ویژن نیوز): پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے میں مصر کی ممکنہ شمولیت کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ مصر اس دفاعی تعاون میں شامل ہونے کے قریب ہے اور بعض تکنیکی امور حل ہونے کے بعد اس کی شمولیت ممکن ہے۔
ہاکان فیدان کے بیان کے مطابق پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ہونے والا معاہدہ خطے میں مشترکہ سلامتی اور دفاعی صلاحیتوں کے فروغ کی جانب اہم قدم ہے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ اس تعاون کا دائرہ مستقبل میں دیگر ممالک تک بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔
مصر کی دفاعی معاہدے میں ممکنہ شمولیت
ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا کہ مصر ترکیہ کا ایک قدرتی اور اہم شراکت دار ہے اور دونوں ممالک پہلے ہی مختلف علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں ہیں۔ ان کے مطابق بعض تکنیکی امور مکمل ہونے کے بعد مصر کے معاہدے میں شامل ہونے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔
تاہم دستیاب اطلاعات کے مطابق مصر کی شمولیت ابھی حتمی طور پر مکمل نہیں ہوئی۔ اس لیے اسے موجودہ مرحلے پر ممکنہ توسیع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، نہ کہ پہلے سے طے شدہ چوتھے رکن کی حیثیت سے۔
پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا دفاعی تعاون
پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب نے حال ہی میں مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے باہمی دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے اور مشترکہ سلامتی کے اصول کو فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔
ترک وزیر خارجہ کے مطابق اس معاہدے کی نوعیت تکنیکی اعتبار سے نیٹو کے اجتماعی دفاع کے اصول سے مماثلت رکھتی ہے، جس کے تحت کسی ایک رکن پر مسلح حملے کو تمام ارکان کی سلامتی سے متعلق معاملہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم معاہدہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں ہے اور اس کا مقصد مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا قرار دیا گیا ہے۔
مصر پہلے ہی علاقائی تعاون کا حصہ
مصر، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان علاقائی سطح پر رابطہ اور مشاورت پہلے سے موجود ہے۔ رواں سال جون میں چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس بھی ہوا تھا، جس میں خطے کی صورتحال، علاقائی کشیدگی اور سلامتی سے متعلق معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
اس تناظر میں مصر کی ممکنہ شمولیت کو موجودہ علاقائی تعاون کے تسلسل کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ چاروں ممالک پہلے ہی مختلف سفارتی اور علاقائی معاملات پر رابطے میں ہیں، جبکہ ترکیہ اور مصر کے درمیان بھی دوطرفہ تعلقات میں بہتری اور اعلیٰ سطحی رابطوں میں اضافہ ہوا ہے۔
علاقائی سلامتی کے لیے ممکنہ اہم پیش رفت
مصر کی ممکنہ شمولیت سے پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان قائم دفاعی تعاون کا دائرہ مزید وسیع ہوسکتا ہے۔ مصر خطے میں اہم جغرافیائی محل وقوع اور وسیع سفارتی روابط رکھتا ہے، جس کے باعث اس کی شمولیت علاقائی سلامتی کے معاملات میں تعاون کے نئے امکانات پیدا کرسکتی ہے۔
تاہم ماہرین کے مطابق کسی بھی دفاعی یا سیکیورٹی فریم ورک کی عملی اہمیت اس کے ارکان کے درمیان ادارہ جاتی رابطوں، مشترکہ پالیسی اور باہمی تعاون کے طریقہ کار پر منحصر ہوتی ہے۔ مصر کی شمولیت کی صورت میں ان پہلوؤں پر بھی مزید وضاحت سامنے آنا متوقع ہے۔
معاہدے میں توسیع کا امکان
ہاکان فیدان نے واضح کیا ہے کہ دفاعی تعاون کے موجودہ فریم ورک میں مزید ممالک کی شمولیت کا امکان موجود ہے۔ مصر کے حوالے سے تکنیکی معاملات حل ہونے کے بعد پیش رفت کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں علاقائی سلامتی، دفاعی تعاون اور سفارتی رابطوں کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔ پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر پہلے ہی مختلف علاقائی معاملات پر مشاورت کر رہے ہیں، جس سے چار ملکی تعاون کے ایک وسیع تر فریم ورک کی بنیاد مضبوط ہوسکتی ہے۔
فی الحال مصر کی باقاعدہ شمولیت کا حتمی اعلان سامنے نہیں آیا، تاہم ترک وزیر خارجہ کے بیان نے اس امکان کو واضح طور پر نمایاں کردیا ہے۔ اگر تکنیکی معاملات طے پاتے ہیں تو مصر کی شمولیت پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے موجودہ دفاعی تعاون کو مزید وسیع علاقائی شکل دے سکتی ہے۔