ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی میں پاکستان کا اہم کردار، ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی کا دعویٰ

ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی ایران اور امریکہ سے متعلق پاکستان کے ثالثی کردار پر گفتگو کرتے ہوئے

یوتھ ویژن نیوز : ( ویب ڈسک) ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ سے متعلق معاملات میں پاکستان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ بعض مواقع پر قطر بھی سفارتی معاونت فراہم کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں مذاکرات کے لیے کوئی نیا ثالث شامل نہیں کیا گیا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مختلف ممالک اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں پاکستان سفارتی رابطوں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جہاں ضرورت پیش آتی ہے، قطر بھی تعاون کرتا ہے، تاہم مذاکراتی عمل میں کسی نئے ثالث کو شامل نہیں کیا گیا۔

چین کی سفارتی کوششوں کا ذکر

ایرانی ترجمان نے چین کے کردار پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بیجنگ کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عدم استحکام پر تشویش ہے۔ ان کے مطابق چین صورت حال کو مزید خراب ہونے سے روکنے کے لیے اپنی سفارتی صلاحیتوں کو بروئے کار لا رہا ہے۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ چین، دیگر دوست ممالک کی طرح، خطے میں امن، استحکام اور کشیدگی میں کمی کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

امریکہ سے فی الحال کوئی مذاکرات نہیں

نیوز کانفرنس کے دوران ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی نے اس تاثر کی بھی تردید کی کہ ایران اور امریکہ کے درمیان اس وقت براہِ راست مذاکرات جاری ہیں۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ایران فی الحال امریکہ کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت نہیں کر رہا۔

ان کے مطابق نہ تو ایران کسی امریکی وفد کی میزبانی کرنے جا رہا ہے اور نہ ہی ایرانی وفد کسی دوسرے ملک میں امریکہ سے مذاکرات کے لیے جا رہا ہے۔

علاقائی سفارت کاری کی اہمیت

ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران پاکستان، قطر اور چین جیسے ممالک کی سفارتی سرگرمیاں علاقائی استحکام کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔ اگرچہ ایران نے پاکستان کے کردار کا ذکر کیا ہے، تاہم مستقبل میں کسی ممکنہ مذاکراتی پیش رفت یا ثالثی کے نتائج کا انحصار متعلقہ ممالک کے فیصلوں پر ہوگا۔

ایرانی وزارت خارجہ کا تازہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سلامتی، سفارتی روابط اور ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے عالمی توجہ مسلسل برقرار ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں