حکومت پاکستانی ڈراموں اور فلموں کو عالمی اسٹریمنگ پلیٹ فارمز تک پہنچانے کے لیے سرگرم
یوتھ ویژن نیوز : (اسلام آباد)-حکومت پاکستان نے ملکی ڈراموں، فلموں اور تخلیقی مواد کو عالمی سطح پر فروغ دینے کے لیے اہم اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ اس مقصد کے لیے نیٹ فلکس، ایمیزون پرائم اور دیگر بین الاقوامی اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں تاکہ پاکستانی مواد کو عالمی ناظرین تک زیادہ مؤثر انداز میں پہنچایا جا سکے۔
احسن اقبال کا بیان
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ پاکستانی ڈرامے اور فلمیں دنیا بھر میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں اور ان کی طلب میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی فنکاروں، ہدایت کاروں اور پروڈیوسرز کی تخلیقات نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ مشرق وسطیٰ، یورپ، شمالی امریکا اور دیگر خطوں میں بھی پسند کی جا رہی ہیں۔
تخلیقی صنعت کو برآمدی شعبہ بنانے کا منصوبہ
بیان کے مطابق "اڑان پاکستان” برآمدی حکمت عملی کے تحت تخلیقی اور ثقافتی صنعت کو قومی معیشت کا اہم ستون بنایا جا رہا ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ فلم، ڈرامہ اور ڈیجیٹل تفریحی مواد مستقبل میں پاکستان کے لیے قیمتی برآمدی شعبہ بن سکتا ہے، جس سے نہ صرف زرمبادلہ میں اضافہ ہوگا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص بھی اجاگر ہوگا۔
عالمی OTT پلیٹ فارمز سے مذاکرات
حکومت کے مطابق نیٹ فلکس، ایمیزون پرائم اور دیگر عالمی OTT پلیٹ فارمز دنیا بھر کے ناظرین تک رسائی کا مؤثر ذریعہ ہیں، تاہم ماضی میں بعض علاقائی سیاسی عوامل کے باعث پاکستانی مواد کو مطلوبہ نمائندگی حاصل نہیں ہو سکی۔
اسی تناظر میں حکومت ان پلیٹ فارمز کے ساتھ علاقائی فریم ورک میں بہتری کے لیے مذاکرات کر رہی ہے تاکہ پاکستانی پروڈکشنز کو عالمی مارکیٹ میں زیادہ مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
پاکستان کا اپنا OTT پلیٹ فارم بھی قائم ہوگا
بیان میں مزید کہا گیا کہ حکومت صرف عالمی پلیٹ فارمز پر انحصار نہیں کرے گی بلکہ پاکستان کا اپنا جدید اور خودمختار OTT پلیٹ فارم بھی قائم کیا جا رہا ہے۔
اس پلیٹ فارم کا مقصد پاکستانی کہانیوں، ثقافت، زبان اور مقامی فنکاروں کو عالمی سطح پر متعارف کرانا اور تخلیق کاروں کو بین الاقوامی مارکیٹ تک براہِ راست رسائی فراہم کرنا ہے۔
معاشی اور ثقافتی فوائد
حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے فلم اور ڈرامہ انڈسٹری میں نئی سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع اور عالمی کاروباری شراکت داری کو فروغ ملے گا، جبکہ تخلیقی صنعت کو برآمدات کے ایک مضبوط شعبے میں تبدیل کرنے میں بھی مدد حاصل ہوگی۔