سعودی عرب اور خلیجی ممالک کی ایرانی حملوں کی شدید مذمت، علاقائی سلامتی پر تشویش کا اظہار
یوتھ ویژن نیوز : (ریاض) سعودی عرب سمیت متعدد خلیجی ممالک نے حالیہ ایرانی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ان ممالک نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تحمل اور استحکام برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
سعودی عرب کا مؤقف
سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایرانی کارروائیاں، جن میں تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ بیان کے مطابق ایسے حملے سمندری راستوں کی سلامتی اور بین الاقوامی جہاز رانی کی آزادی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
قطر اور کویت کا ردعمل
قطری وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں ایران کی جانب سے قطر اور دیگر عرب ممالک کو نشانہ بنانے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی کارروائیاں خطے کے امن، سلامتی اور استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں۔
کویت نے بھی ایرانی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات خطے میں کشیدگی اور عدم استحکام کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ کویتی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ملک کو اپنی سلامتی، خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانے کا حق حاصل ہے۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال
دوسری جانب برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO) نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی کو لاحق خطرات اب بھی انتہائی شدید ہیں۔
ادارے کے مطابق ایران کے حالیہ اعلانات کے باوجود آبنائے ہرمز کا جنوبی بحری راستہ کھلا ہے اور اسے دو طرفہ بحری آمدورفت کے لیے مزید وسیع کر دیا گیا ہے تاکہ تجارتی سرگرمیاں جاری رہ سکیں۔
پس منظر
واضح رہے کہ ایران نے حالیہ امریکی فضائی حملوں کے جواب میں خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی تنصیبات اور اڈوں کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔
ایرانی حکام کے مطابق قطر، کویت، بحرین، متحدہ عرب امارات اور اردن میں موجود امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ بعض حملوں میں فضائی دفاعی نظام اور دیگر فوجی تنصیبات بھی ہدف رہیں۔
سوال: کن ممالک نے ایرانی حملوں کی مذمت کی؟
جواب: سعودی عرب، قطر، کویت اور دیگر خلیجی ممالک نے۔
سوال: سعودی عرب نے اپنے بیان میں کیا کہا؟
جواب: سعودی وزارت خارجہ نے حملوں کو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی قرار دیا۔
سوال: آبنائے ہرمز کے بارے میں کیا صورتحال ہے؟
جواب: برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق جنوبی بحری راستہ کھلا ہے، تاہم بحری سلامتی کو خطرات برقرار ہیں۔
سوال: ایران نے حملوں کی کیا وجہ بتائی؟
جواب: ایرانی حکام کے مطابق یہ حملے حالیہ امریکی فضائی کارروائیوں کے جواب میں کیے گئے۔
سوال: کن مقامات کو مبینہ طور پر نشانہ بنایا گیا؟
جواب: ایران کے مطابق قطر، کویت، بحرین، متحدہ عرب امارات اور اردن میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو۔