لاہور سے کراچی جانے والی شالیمار ایکسپریس خانیوال کے قریب حادثے کا شکار
لاہور سے کراچی جانے والی شالیمار ایکسپریس خانیوال کے قریب حادثے کا شکار، کوئی جانی نقصان نہیں
یوتھ ویژن نیوز : لاہور سے کراچی جانے والی شالیمار ایکسپریس خانیوال کے قریب حادثے کا شکار ہوگئی، جہاں ٹرین کی ایک بوگی پٹری سے اتر گئی۔ خوش قسمتی سے ٹرین کی رفتار کم ہونے کے باعث کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
حادثہ کیسے پیش آیا؟
ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثہ خانیوال لوکو شیڈ کے قریب پیش آیا، جہاں ٹرین کی ٹرالی کے وہیل سے ریل کا پہیہ نکل کر دوسری بوگی سے ٹکرا گیا۔ اس کے نتیجے میں شدید جھٹکا لگا اور ایک بوگی پٹری سے اتر گئی۔
ریلوے حکام کی فوری کارروائی
پاکستان ریلوے کے ترجمان کے مطابق حادثے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں۔ احتیاطی تدابیر کے تحت شالیمار ایکسپریس کی پانچ بوگیوں کو الگ کرکے خانیوال ریلوے اسٹیشن منتقل کردیا گیا۔
ریلوے کا امدادی عملہ متاثرہ بوگی کو دوبارہ ٹریک پر لانے اور ریلیف ٹرین کے ذریعے اپ اور ڈاؤن ریلوے ٹریک بحال کرنے کے لیے سرگرم ہے۔
کوئی جانی نقصان نہیں ہوا
ریلوے ترجمان کا کہنا ہے کہ حادثے کے وقت ٹرین کی رفتار معمول سے کم تھی، جس کی وجہ سے کوئی مسافر جاں بحق یا زخمی نہیں ہوا۔ حکام کے مطابق حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
پاکستان میں ریلوے حادثات کی تاریخ
پاکستان میں گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران متعدد بڑے ریلوے حادثات پیش آچکے ہیں، جن میں سیکڑوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
ملکی تاریخ کا ایک بڑا حادثہ 1953 میں جھمپیر کے قریب پیش آیا تھا، جس میں تقریباً 200 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ حالیہ برسوں میں بھی مختلف حادثات نے ریلوے کے انفراسٹرکچر اور حفاظتی اقدامات پر سوالات اٹھائے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کئی ریلوے ٹریک، پل اور سگنلنگ نظام جدید تقاضوں کے مطابق اپ گریڈ نہیں کیے گئے، جبکہ متعدد مقامات پر غیر محفوظ ریلوے کراسنگز بھی حادثات کا باعث بنتی ہیں۔
نتیجہ
خانیوال کے قریب شالیمار ایکسپریس کو پیش آنے والے حادثے میں خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم اس واقعے نے ایک بار پھر ریلوے انفراسٹرکچر، ٹریک کی حالت اور حفاظتی نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت کو اجاگر کردیا ہے۔ ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ ٹریک کی بحالی اور آپریشن کی مکمل بحالی کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔