ایران نے مشرق وسطیٰ میں جوابی میزائل اور ڈرون حملے کر دیے
یوتھ ویژن نیوز : (تہران)– امریکی حملوں کے جواب میں ایران کے پاسداران انقلاب (IRGC) نے اردن، کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ ان حملوں کے نتیجے میں پورے خطے میں فضائی دفاعی نظام چالو ہو گئے اور علاقائی ممالک نے ہائی الرٹ جاری کر دیا۔
یہ حملے بدھ 10 جون 2026 کو صبح سویرے کیے گئے، جو امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فضائی حملوں کے چند گھنٹوں بعد عمل میں آئے۔ ایران کے پاسداران انقلاب نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے "فتح” اور "قادر” بیلسٹک میزائل اور "شاہد” حملہ ڈرون استعمال کیے ہیں۔
تین ممالک میں حملوں کی تفصیلات
بحرین: پاسداران انقلاب نے بحرین میں موجود امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر کو متعدد میزائلوں کا نشانہ بنایا۔ بحرینی حکام کے مطابق ان میں سے کچھ میزائل فضائی دفاعی نظام نے روک دیے، جبکہ کچھ نے اہم فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچایا۔ مقامی ذرائع کے مطابق دارالحکومت منامہ میں کئی دھماکے سنے گئے اور علاقے میں سائرن بجائے گئے۔
اردن: اردن میں واقع امریکی فضائیہ کے اڈے کو بھی ایرانی میزائلوں کا نشانہ بنایا گیا۔ اردنی فوج نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے اپنے فضائی دفاعی نظام کو چالو کر کے متعدد میزائلوں کو روک دیا، تاہم بعض مقامات پر معمولی نقصان ہوا ہے۔ اردنی وزارت خارجہ نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے "علاقائی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ” قرار دیا ہے۔
کویت: کویت میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو بھی ایرانی ڈرون اور میزائلوں کا نشانہ بنایا گیا۔ کویتی حکام کے مطابق انہوں نے اپنی فضائی حدود کو فوری طور پر بند کر دیا اور فوج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ کویتی وزارت دفاع نے بتایا ہے کہ زیادہ تر حملوں کو ناکام بنا دیا گیا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔
خطے میں فضائی دفاعی نظام چالو
ان حملوں کے نتیجے میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور عمان نے بھی اپنے فضائی دفاعی نظام کو چالو کر دیا ہے۔ سعودی وزارت دفاع نے اپنی فضائی حدود کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔
اسرائیل نے بھی اپنے شمالی اور جنوبی علاقوں میں فضائی دفاعی نظام کو چالو کر دیا ہے اور مشرقی علاقوں میں سائرن بجائے گئے۔ اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی قسم کی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
پاسداران انقلاب کا بیان
ایران کے پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ "یہ حملے امریکی جارحیت کا براہِ راست جواب ہیں۔ ہم نے خبردار کیا تھا کہ کسی بھی قسم کی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ہم نے اپنے وعدے پورے کر دیے ہیں۔”
بیان میں مزید کہا گیا کہ "یہ صرف ابتدائی جواب ہے۔ اگر امریکہ نے اپنی جارحیت جاری رکھی تو ہمارے پاس مزید طاقتور جواب موجود ہیں۔”
امریکہ کا ردعمل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں کے بعد ایک ہنگامی پریس کانفرنس بلائی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ "ایران نے ایک بہت بڑی غلطی کی ہے۔ ہم ان حملوں کا مناسب جواب دیں گے۔ امریکی افواج کو کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا ہے اور ہم اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایران کو اس کی جارحیت کا خمیازہ بھگتوائیں گے۔”
پینٹاگون نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی حملوں میں کسی بھی امریکی فوجی کے ہلاک ہونے کی اطلاعات نہیں ہیں، تاہم بعض تنصیبات کو معمولی نقصان پہنچا ہے۔ امریکی فوج نے علاقے میں اضافی فوجی دستے تعینات کر دیے ہیں۔
عالمی ردعمل اور اقوام متحدہ کی میٹنگ
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس صورتحال پر ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے تمام فریقین سے فوری طور پر کشیدگی کم کرنے اور مکالمے کی راہ اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔
چین اور روس نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ "ہم صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ تمام فریقین بات چیت کے ذریعے اپنے مسائل حل کریں گے۔”
پاکستان کا موقف اور سفارتی کوششیں
پاکستان نے بھی اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے پرعزم ہے اور تمام فریقین سے کشیدگی کم کرنے کی اپیل کرتا ہے۔
پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع میں ثالثی کا کردار ادا کر رکھا ہے اور حالیہ کشیدگی کے باعث ان کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔
خطے میں غیر یقینی صورتحال
ان حملوں کے بعد پورے مشرق وسطیٰ میں شدید غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ ہوا ہے اور عالمی منڈیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ حملے خطے کو ایک نئی اور زیادہ خطرناک جنگ کی طرف لے جا سکتے ہیں۔ بین الاقوامی برادری سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے فوری اقدامات کرے۔