پاکستان آرمی کا عالمی سطح پر اعزاز: کیڈٹ سردار ارسم عباس آسٹریلیا میں بہترین غیر ملکی کیڈٹ قرار

پاکستان آرمی کا عالمی سطح پر اعزاز: کیڈٹ سردار ارسم عباس آسٹریلیا میں بہترین غیر ملکی کیڈٹ قرار

راولپنڈی (یوتھ ویژن نیوز) – پاکستان آرمی کی جونیئر قیادت نے ایک بار پھر عالمی سطح پر اپنی پیشہ ورانہ مہارت کا لوہا منوا لیا ہے۔ آسٹریلیا کے رائل ملٹری کالج (RMC) ڈنٹرون میں منعقدہ پاسنگ آؤٹ پریڈ کے دوران پاکستان آرمی کے کیڈٹ سردار ارسم عباس (PMA 152 لانگ کورس) کو مجموعی طور پر "بہترین غیر ملکی فوجی کیڈٹ” کے اعزاز سے نوازا گیا ہے۔

یہ باوقار ایوارڈ تربیت کے تمام مراحل میں غیر معمولی کارکردگی دکھانے والے کیڈٹ کو دیا جاتا ہے، جو پاک فوج کے اعلیٰ تربیتی معیار اور عزم و استقلال کا عکاس ہے۔

تقریب میں شریک شخصیات

تقریب کے مہمانِ خصوصی آسٹریلوی آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل سائمن اسٹورٹ تھے، جبکہ شرکاء میں پاکستانی ہائی کمشنر، سفارتی نمائندے اور آسٹریلوی حکام شامل تھے۔ اس موقع پر تمام شرکاء نے پاکستانی کیڈٹ کی کارکردگی کو سراہا۔

14واں موقع جب پاکستانی کیڈٹ نے یہ سنگ میل عبور کیا

تاریخی طور پر یہ 14واں موقع ہے کہ کسی پاکستانی کیڈٹ نے یہ سنگِ میل عبور کیا ہے۔ اس سے قبل تمغہِ بسالت پانے والے لیفٹیننٹ ناصر حسین خالد سلہریہ شہید بھی یہ اعزاز حاصل کر چکے ہیں، جن کی قربانی کی یاد میں ان کا نام آج بھی رائل ملٹری کالج کے یادگاری کتبے پر درج ہے۔

پاکستان اور آسٹریلیا کے عسکری تعلقات

پاکستان اور آسٹریلیا کے مستحکم عسکری تعلقات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2009 سے اب تک 46 پاکستانی کیڈٹس اس ادارے سے فارغ التحصیل ہو چکے ہیں، جبکہ متعدد پاکستانی افسران وہاں بطور انسٹرکٹرز (پلاٹون کمانڈرز) بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

یہ کامیابی عالمی سطح پر پاکستان کے دفاعی وقار میں اضافے کا باعث ہے۔

کیڈٹ ارسم عباس کی کامیابی پر ردعمل

پاکستان آرمی کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے اس کامیابی پر کیڈٹ ارسم عباس اور ان کی فیملی کو مبارکباد دی ہے۔ ترجمان کے مطابق اس اعزاز سے پاک فوج کے اعلیٰ تربیتی معیار کا عالمی سطح پر اعتراف ہوا ہے۔

کیڈٹ ارسم عباس کا تعلق پوٹھوہار علاقے سے ہے اور انہوں نے PMA 152 لانگ کورس میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

پاکستانی افسران کی خدمات

رائل ملٹری کالج ڈنٹرون میں پاکستانی افسران بطور انسٹرکٹر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان عسکری تعاون کی ایک مثال ہے۔ یہ تعاون آئندہ برسوں میں مزید مستحکم ہونے کی توقع ہے۔

ماہرین کے مطابق اس قسم کی کامیابیاں پاکستان کے دفاعی شعبے کے مثبت امیج کو مزید تقویت بخشتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں