وفاقی حکومت: آئندہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافے کا امکان! 15 سے 20 فیصد اضافے کی تجویز زیرِ غور
اسلام آباد (یوتھ ویژن نیوز) – وفاقی حکومت نے آئندہ مالیاتی سال 2026-27 کے بجٹ کی تیاریاں تیز کر دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 15 سے 20 فیصد اضافے کی تجویز زیرِ غور ہے۔
وزیراعظم کی زیرِ صدارت اجلاس میں مہنگائی کے تناسب سے عوام کو ریلیف دینے کے لیے مختلف اقدامات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ اب معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عام آدمی تک پہنچانے کا وقت آ گیا ہے۔
تنخواہوں میں اضافے کی تیاریاں
ذرائع کے مطابق حکومت نے اس بار سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافے پر غور شروع کر دیا ہے۔ گزشتہ چند مالیاتی سالوں میں مہنگائی کی شرح میں اضافے کے باعث سرکاری ملازمین کی قوتِ خرید میں کمی آئی ہے، جس پر حکومت نے ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
مجوزہ اضافے کا انحصار مالیاتی وسائل اور معاشی صورتحال پر ہوگا، لیکن ابتدائی تجاویز میں 15 سے 20 فیصد اضافے کی سفارش کی گئی ہے۔
پنشن میں بھی اضافہ متوقع
ذرائع کے مطابق حکومت ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن میں بھی اسی طرح کے تناسب سے اضافے پر غور کر رہی ہے۔ لاکھوں پنشن یافتہ افراد کو اس اقدام سے بڑا ریلیف ملنے کی توقع ہے۔
بجٹ میں دیگر ممکنہ اقدامات
تنخواہوں میں اضافے کے علاوہ، حکومت بجٹ میں درج ذیل اقدامات بھی شامل کر سکتی ہے:
- ٹیکس ریلیف کے نئے پیکجز
- ترقیاتی منصوبوں میں اضافہ
- سبسڈیز میں توسیع
- معاشی اصلاحات کے مزید اقدامات
معاشی استحکام کے ثمرات
وزارتِ خزانہ کے مطابق پاکستان کی معیشت اب استحکام کی طرف گامزن ہے اور مہنگائی کی شرح میں کمی کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ حکومت چاہتی ہے کہ اس بہتری کے اثرات عوام تک پہنچیں، جس کے لیے تنخواہوں میں اضافہ اولین ترجیح ہے۔
ماہرین اقتصادیات کے مطابق اگر یہ اضافہ منظور ہو جاتا ہے تو اس سے نہ صرف سرکاری ملازمین بلکہ نجی شعبے میں بھی تنخواہوں میں اضافے کا رجحان پیدا ہو سکتا ہے۔
تاہم حتمی فیصلہ بجٹ کی دستاویزات کی تکمیل کے بعد کیا جائے گا جو عام طور پر جون کے اوائل میں پیش کیا جاتا ہے۔