خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا فیصلہ: امتیازی سلوک کے خلاف صوبے بھر میں قلم چھوڑ ہڑتال کا اعلان
پشاور (یوتھ ویژن نیوز) – وفاق کی طرف سے این ایف سی ایوارڈ، بجلی اور گیس میں مبینہ امتیازی سلوک کے خلاف خیبرپختونخوا حکومت نے 6 مئی کو صوبے بھر میں قلم چھوڑ ہڑتال کی ہدایت کی۔ اس احتجاج کے نتیجے میں تمام سرکاری دفاتر بند رہے اور کوئی سرکاری کام انجام نہیں دیا گیا۔
یہ ہڑتال صوبے کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کا ایک منظم اور پرامن طریقہ ہے، جس میں تمام سرکاری ملازمین نے حصہ لیا۔
سہیل آفریدی کا وفاق پر شدید الزام
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ صوبے کے سالانہ 500 ارب روپے کھائے جا رہے ہیں، جبکہ 1375 ارب روپے کے این ایف سی (نیشنل فنانس کمیشن) ایوارڈ کے شیئر سے بھی صوبے کو محروم رکھا جا رہا ہے۔
انہوں نے وفاق پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان کو اہل خانہ اور وکلا سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، جسے انہوں نے غیر انسانی اور غیر قانونی قرار دیا۔
این ایف سی ایوارڈ میں خیبرپختونخوا کا حق
واضح رہے کہ نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت صوبوں کو وفاقی ٹیکسوں میں سے ایک مقررہ فیصد دیا جانا ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت کا مؤقف ہے کہ اسے اس کے جائز حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
اس کے علاوہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بھی صوبے کے ساتھ امتیازی سلوک کا الزام ہے۔
ہڑتال کے اثرات
قلم چھوڑ ہڑتال کے باعث صوبے بھر میں تمام سرکاری دفاتر، تعلیمی ادارے اور سرکاری خدمات معطل رہیں۔ عوام الناس کو سرکاری کاموں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
تاہم ہنگامی خدمات جیسے ہسپتال اور پولیس معمول کے مطابق کام کرتی رہیں۔
احتجاج جاری رہنے کا امکان
ذرائع کے مطابق اگر وفاق نے صوبے کے مطالبات نہ مانے تو آنے والے دنوں میں مزید احتجاجی اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔ عوامی ردعمل بھی سہیل آفریدی کے موقف کے حق میں نظر آ رہا ہے۔