شہزادہ محمد بن سلمان اور شیخ محمد بن زائد کے درمیان اہم ٹیلی فونک رابطہ، ایرانی حملوں کی شدید مذمت
یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) شاہی عظمت کے حامل شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، ولی عہد اور وزیراعظم نے آج متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان کو ٹیلی فون کیا۔
اس دوران انہوں نے متحدہ عرب امارات کو نشانہ بنانے والے بلاجواز ایرانی حملوں کی سعودی عرب کی جانب سے شدید الفاظ میں مذمت کی۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے متحدہ عرب امارات کی سلامتی اور استحکام کے دفاع میں مملکت کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔
ایرانی حملوں کی شدید مذمت
سعودی ولی عہد نے اپنی گفتگو میں کہا کہ متحدہ عرب امارات پر ایران کی طرف سے کیے گئے حملے بلاجواز اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ سعودی عرب امارات کے ساتھ مکمل یکجہتی رکھتا ہے۔
شہزادہ محمد بن سلمان نے واضح کیا کہ امارات کی سلامتی اور استحکام سعودی عرب کی اپنی سلامتی اور استحکام ہے اور کوئی بھی خطرہ دونوں برادر ممالک کے لیے مشترکہ ہے۔
علاقائی صورتحال کا جائزہ
دونوں رہنماؤں نے خطے کی تازہ ترین صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا اور پورے خطے میں سلامتی اور استحکام کو بڑھانے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔
انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک کو ایران کی بڑھتی ہوئی جارحیت کے خلاف متحدہ موقف اختیار کرنا چاہیے۔
بھرپور حمایت کا اعادہ
شہزادہ محمد بن سلمان نے شیخ محمد بن زاید کو یقین دلایا کہ سعودی عرب ہر ممکن طریقے سے امارات کے دفاع میں کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات ہر طرح کی آزمائشوں میں مزید مضبوط ہوتے ہیں۔
اس موقع پر شیخ محمد بن زاید نے سعودی ولی عہد کے اس موقف کو سراہا اور کہا کہ ایسے مشکل حالات میں برادر ممالک کا ساتھ ہی اصل طاقت ہے۔
خلیجی ممالک میں ہم آہنگی
ماہرین کے مطابق سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان یہ ہم آہنگی ایران کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ خلیجی ممالک اپنی سلامتی کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کو تیار ہیں۔
ذرائع کے مطابق آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ فوجی مشقوں کے انعقاد کے امکانات بھی ہیں۔
عالمی سطح پر ردعمل
امریکہ اور برطانیہ نے سعودی عرب کے اس موقف کو سراہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا کہ خطے میں استحکام کے لیے خلیجی ممالک کا اتحاد بہت اہم ہے۔
دوسری طرف ایران نے ابھی تک اس بارے میں کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں لایا ہے۔