امریکی جہازوں پر حملے کی صورت میں ایران کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیں گے : ٹرمپ کی ایران کو دھمکی

ٹرمپ کی نمایاں تصویئر

یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک)  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ اگر ایران نے ‘پروجیکٹ فریڈم’ کے تحت کام کرنے والے امریکی بحری جہازوں پر کوئی حملہ کیا تو اسے دنیا کے نقشے سے ہمیشہ کے لیے مٹا دیا جائے گا۔

ایک امریکی ٹی وی چینل سے گفتگو میں ٹرمپ نے یہ انتہائی سخت اور دھمکی آمیز بیان دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کسی بھی صورت میں آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری تجارت کو یقینی بنائے گا اور کسی کو بھی اس میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ایران مذاکرات میں لچک دکھا رہا ہے؟

ٹرمپ نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ ان کے خیال میں ایران اب امن مذاکرات میں کافی حد تک لچک دکھانے لگا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران سمجھ گیا ہے کہ امریکی طاقت کا مقابلہ ممکن نہیں۔

تاہم دھمکی آمیز لہجے میں ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران نے کوئی غلطی کی تو اس کے انجام بہت سنگین ہوں گے۔

امریکی فوجی تیاریوں میں اضافہ

ٹرمپ نے مزید بتایا کہ خطے میں امریکی فوجی تیاریوں میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے، اور وہ پہلے سے کہیں زیادہ جدید اسلحے اور گولہ بارود سے لیس ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے دنیا بھر میں ایسے اڈے موجود ہیں جو مکمل طور پر سازوسامان سے بھرے ہوئے ہیں، اور وہ اس سامان کو استعمال کر سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ ایسا کریں گے۔

‘پروجیکٹ فریڈم’ کیا ہے؟

پروجیکٹ فریڈم امریکی بحریہ کا ایک مشن ہے جس کے تحت امریکی جنگی جہاز عالمی آبی گزرگاہوں میں آزادانہ بحری تجارت اور نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لیے گشت کرتے ہیں۔ آبنائے ہرمز اس مشن کا اہم مرکز ہے۔

ایران نے متعدد بار اس مشن کو اپنی خودمختاری کے خلاف قرار دیا ہے اور امریکی جہازوں کو اپنے علاقائی پانیوں میں آنے سے روکنے کی کوشش کی ہے۔

ایران کا ردعمل

ایران کی طرف سے ابھی تک ٹرمپ کی اس دھمکی پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ایران کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز ایران نے آبنائے ہرمز میں ایک امریکی ڈسٹرائر پر میزائل حملوں کی ویڈیو جاری کی تھی، جسے امریکہ نے مسترد کر دیا تھا۔

عالمی خدشات

ماہرین کے مطابق ٹرمپ کا یہ بیان خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ اقوام متحدہ نے دونوں فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی اپیل کی ہے۔

چین اور روس نے بھی اس صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور امریکہ سے معاملات کو مزید بگڑنے سے روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ادھر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے ٹرمپ کے بیان کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے امریکی کردار ناگزیر ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں