شہباز شریف اور ایرانی صدر کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ: خطے میں امن و استحکام پر تبادلہ خیال
یوتھ ویژن نیوز : (ویب ڈسک) وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلی فون پر تفصیلی گفتگو ہوئی، جس میں خطے کی موجودہ صورتحال اور امن و استحکام کے فروغ کے لیے جاری کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کے مطابق تقریباً 50 منٹ پر محیط اس گرمجوش اور دوستانہ مکالمے کے دوران دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔
پاکستان کا امن کی کوششوں جاری رکھنے کا عزم
وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر کو یقین دلایا کہ پاکستان خطے میں امن و سلامتی کے فروغ کے لیے اپنی مخلصانہ اور سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گا۔
انہوں نے 11 اور 12 اپریل 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں ایران کے اعلیٰ سطحی وفد کی شرکت کو سراہا۔
ایرانی وفد کے دورہ اسلام آباد پر گفتگو
وزیراعظم نے ایران کی جانب سے وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں اسلام آباد بھیجے گئے وفد کا خیرمقدم کیا، جس نے ان سمیت دیگر اہم شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔ وزیراعظم کے ساتھ دو گھنٹے طویل تفصیلی اجلاس بھی اس وفد کے دورے کا حصہ تھا۔
عالمی رہنماؤں کے ساتھ رابطوں سے اتفاق رائے پیدا ہوا
شہباز شریف نے ایرانی صدر کو اپنی حالیہ سفارتی سرگرمیوں سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ عالمی رہنماؤں سے ان کے رابطوں نے جنگ زدہ خطے میں پائیدار امن کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کی حمایت میں وسیع تر اتفاق رائے پیدا کرنے میں مدد دی ہے۔
آرمی چیف کے دورہ تہران کو سراہا
وزیراعظم نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران کے دوران ایرانی قیادت کے ساتھ ہونے والی مفید بات چیت کو بھی سراہا۔ اس دورے میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سیکیورٹی تعاون کے حوالے سے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
ایران کا پاکستان کی کاوشوں پر شکریہ
صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم، آرمی چیف اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی امن کی کاوشوں میں اہم کردار پر شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے بغیر خطے میں موجودہ جنگ بندی ممکن نہ تھی۔
برادرانہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے
وزیراعظم شہباز شریف نے یقین ظاہر کیا کہ ایران اور پاکستان کے برادرانہ تعلقات مستقبل میں مزید مستحکم اور وسیع ہوں گے۔
انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے نیک تمناؤں اور احترام کا پیغام بھی پہنچایا۔
دونوں رہنماؤں نے مستقبل میں باہمی رابطوں اور قریبی مشاورت کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
سفارتی حلقوں میں مثبت پیغام
ماہرین کے مطابق یہ ٹیلی فونک رابطہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی پاکستان کی کوششوں کا ایک اہم حصہ ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا سفارتی تعلق مشرق وسطیٰ میں استحکام کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کرتے ہوئے جنگ بندی کروانے میں اہم کردار ادا کیا تھا، جو آنے والے دنوں میں مستقل امن معاہدے کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔