آئی ایس ایس آئی ویبینار: پاکستان-بنگلہ دیش تعلقات میں نئے امکانات، تعمیری ڈائیلاگ پر زور

اسلام آباد میں ہونے والے ویبینار کا منظر، ماہرین اور سفارتکار آن لائن اجلاس میں شریک ہیں۔

خصؤصی رپورٹ برائے علی رضا ابراہیم سے

یوتھ ویژن نیوز : ( اسلام آباد) انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (ISSI) کے زیر اہتمام ایک بین الاقوامی ویبینار میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات کے نئے امکانات، علاقائی تعاون اور جغرافیائی سیاسی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ویبینار میں دونوں ممالک کے ماہرین، سفارت کاروں اور پالیسی سازوں نے شرکت کی۔

ویبینار کا پس منظر اور مقصد

"بنگلہ دیش-پاکستان ڈائیلاگ: تعمیری مشغولیت کے راستے” کے عنوان سے منعقدہ اس ویبینار کا مقصد ڈھاکہ میں حالیہ سیاسی تبدیلیوں کے تناظر میں دوطرفہ تعلقات کی سمت اور جنوبی ایشیا میں بدلتی ہوئی صورتحال کا جائزہ لینا تھا۔

یہ پروگرام آئی ایس ایس آئی کے انڈیا اسٹڈی سینٹر اور بنگلہ دیش انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز (BISS) کے اشتراک سے منعقد کیا گیا۔

مشترکہ صدارت اور شرکاء

ویبینار کی مشترکہ صدارت آئی ایس ایس آئی کے چیئرمین سفیر خالد محمود اور بی آئی ایس ایس کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل (ریٹائرڈ) اے ایس ایم رضوان الرحمن نے کی۔

تقریب میں سابق سفارت کاروں، ماہرین تعلیم، کاروباری شخصیات اور ریسرچ اسکالرز نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

خطے میں تعاون اور مواقع پر گفتگو

سفیر خالد محمود نے اپنے خطاب میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے تاریخی تعلقات، باہمی احترام اور تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون، ادارہ جاتی روابط اور عوامی سطح پر تعلقات میں وسعت کے واضح امکانات موجود ہیں۔

انہوں نے موسمیاتی تبدیلی، غذائی تحفظ اور پائیدار ترقی جیسے مشترکہ چیلنجز پر بھی تعاون کی ضرورت پر زور دیا اور سارک کی بحالی کو خطے کے لیے اہم قرار دیا۔

علاقائی چیلنجز اور سفارتی نقطہ نظر

میجر جنرل (ر) اے ایس ایم رضوان الرحمن نے کہا کہ جنوبی ایشیا کو سیاسی کشیدگی، کمزور تعاون اور مشترکہ چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دونوں ممالک کو عملی تعاون اور پالیسی سطح پر ہم آہنگی کی طرف بڑھنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مستقبل میں تعلقات کی بہتری کے لیے ایک دوسرے کی ترجیحات کو سمجھنا اور قابل عمل سفارشات تیار کرنا ضروری ہے۔

ماہرین کی تجاویز

ڈاکٹر خرم عباس نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں بہتری آئی ہے، جو سلامتی، معیشت اور عوامی روابط جیسے شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع فراہم کرتی ہے۔

سفیر بابر امین اور دیگر مقررین نے علاقائی انضمام اور سارک کی بحالی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیا کو خود مختار علاقائی پالیسی اپنانا ہوگی۔

اختتامی نکات

ویبینار کے شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات میں مثبت پیش رفت جاری ہے اور مسلسل مکالمہ خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں