اسپین کا بڑا سفارتی قدم

اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز غزہ کی صورتحال اور اسرائیل سے سفیر واپس بلانے کے فیصلے پر بیان دیتے ہوئے۔زاہدہ حنا

کالم نگار : زاہد حنا

عالمی سیاست میں بعض فیصلے محض سفارتی نوعیت کے نہیں ہوتے بلکہ وہ ایک واضح سیاسی پیغام بھی دیتے ہیں۔ یورپی ملک اسپین نے حالیہ دنوں میں ایسا ہی ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے اسرائیل سے اپنے سفیر کو باضابطہ طور پر واپس بلا لیا ہے، جسے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، خصوصاً غزہ کی صورتحال اور ایران کے ساتھ بڑھتے تنازع کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ سفارتی حلقوں کے مطابق کسی بھی ملک کی جانب سے اپنے سفیر کو واپس بلانا تعلقات میں سنجیدگی اور ناراضی کی علامت سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اسپین کے اس اقدام کو صرف ایک رسمی سفارتی تبدیلی نہیں بلکہ ایک واضح سیاسی پیغام کے طور پر لیا جا رہا ہے۔

اس فیصلے کے پس منظر میں گزشتہ کئی مہینوں سے جاری سفارتی کشیدگی بھی اہم کردار ادا کر رہی تھی۔ جب غزہ میں جنگ کی شدت میں اضافہ ہوا اور انسانی بحران مزید سنگین ہوتا گیا تو اسپین کی حکومت نے اسرائیل کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید شروع کر دی۔ اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے متعدد مواقع پر کہا کہ غزہ میں جاری فوجی کارروائیاں انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہیں اور عالمی برادری کو فوری طور پر اس مسئلے کے حل کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔ ان بیانات نے نہ صرف یورپ بلکہ اسرائیل کے اندر بھی شدید ردعمل کو جنم دیا۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اسپین یورپ کے ان ممالک میں شامل رہا ہے جو فلسطینی مسئلے کے حوالے سے نسبتاً واضح مؤقف رکھتے ہیں۔ گزشتہ برس اسپین نے باقاعدہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد یورپی سیاست میں ایک نئی بحث شروع ہو گئی۔ اسرائیل نے اس اقدام کو یکطرفہ اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا جبکہ اسپین نے اسے بین الاقوامی قانون اور انصاف کے مطابق قدم قرار دیا۔ اس فیصلے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں واضح سرد مہری پیدا ہو گئی تھی۔

غزہ میں جاری جنگ نے اس تنازع کو مزید گہرا کر دیا۔ 2023 میں حماس کے حملوں کے بعد اسرائیل نے غزہ میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کی جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو گئے۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے بارہا اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا، جبکہ اسپین بھی ان ممالک میں شامل تھا جنہوں نے کھل کر جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اس مسئلے کا مستقل حل صرف سیاسی مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

اس معاملے کا ایک اہم پہلو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی بھی ہے، خاص طور پر ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتا ہوا تنازع۔ حالیہ مہینوں میں جب ایران اور اسرائیل کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوا اور جنگ کے امکانات کی باتیں سامنے آئیں تو اسپین نے واضح طور پر کہا کہ وہ کسی بھی نئی جنگ کے حق میں نہیں۔ اسپین کی حکومت نے یہ اعلان بھی کیا کہ وہ اپنی سرزمین یا فوجی اڈوں کو ایران کے خلاف کسی ممکنہ حملے کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اسپین کا یہ اقدام صرف اسرائیل کے ساتھ تعلقات تک محدود نہیں بلکہ یورپی سیاست کے اندر بھی ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ یورپ کے اندر اس وقت دو مختلف نقطہ نظر موجود ہیں۔ کچھ ممالک اسرائیل کے ساتھ مضبوط اتحاد برقرار رکھنے کے حامی ہیں جبکہ کچھ ممالک اسرائیل کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کر رہے ہیں۔ اسپین کے علاوہ آئرلینڈ اور ناروے جیسے ممالک بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں، جس کے باعث یورپی یونین کے اندر خارجہ پالیسی پر اختلافات مزید نمایاں ہو گئے ہیں۔

اسپین کے سفیر کی واپسی کے بعد اسرائیل اور اسپین کے تعلقات مزید کمزور ہو گئے ہیں۔ دراصل اسرائیل نے بھی اس سے پہلے اسپین کے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے فیصلے کے بعد اپنا سفیر میڈرڈ سے واپس بلا لیا تھا، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان سفارتی سطح پہلے ہی محدود ہو چکی تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے سفارتی اقدامات عالمی دباؤ پیدا کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ جب مختلف ممالک کسی پالیسی کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں تو اس سے عالمی سطح پر بحث شروع ہوتی ہے اور ممکن ہے کہ اس کے نتیجے میں پالیسیوں میں تبدیلی بھی آئے۔ دوسری جانب کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ سفیروں کی واپسی جیسے اقدامات سے مذاکرات کے دروازے بھی متاثر ہو سکتے ہیں، تاہم اسپین کی حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام کا مقصد تعلقات ختم کرنا نہیں بلکہ انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کے حوالے سے ایک واضح سیاسی پیغام دینا ہے۔

مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ آنے والے مہینے عالمی سیاست کے لیے نہایت اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ غزہ کا بحران، ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی، اور عالمی طاقتوں کی مختلف حکمت عملی اس خطے کو مسلسل غیر یقینی صورتحال میں رکھے ہوئے ہے۔ ایسے ماحول میں اسپین جیسے ممالک کی جانب سے سفارتی دباؤ بڑھانے کی کوششیں ایک نئے سیاسی رجحان کی نشاندہی بھی کر سکتی ہیں۔ ممکن ہے کہ مستقبل میں مزید یورپی ممالک بھی اسی طرح کے اقدامات پر غور کریں۔

فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اسپین کے اس فیصلے کے فوری نتائج کیا نکلیں گے، تاہم ایک بات واضح ہے کہ اس اقدام نے عالمی سیاست میں ایک نئی بحث کو ضرور جنم دیا ہے۔ یہ بحث اس سوال کے گرد گھوم رہی ہے کہ آیا عالمی برادری واقعی انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کو اہمیت دیتی ہے یا یہ اصول صرف سفارتی بیانات تک محدود رہ جاتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں